سب وکیل ، جج ، پولیس اور سیاست دان برے نہیں ہیں، ، چیف جسٹس

July 16, 2019 12:41 pm0 commentsViews: 6

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک کے وڈیو اسکینڈل پر دائر درخواستوں کی سماعت کے ریمارکس دیئے ہیں کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں اور کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے ثبوت نہیں ہو گی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی وڈیو اسکینڈل کی سماعت کر رہا ہے، سماعت کے موقع پر محمود خان اچکزئی ، طارق فضل چوہدری، جاوید ہاشمی اور رفیق رجوانہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل منیر صادق نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ الزام عائد کیا گیا کہ جج نے فیصلہ کسی کی ایما پر دیا، جج نے الزامات کی تردید کر دی، جج نے کہا ویڈیو کے مختلف حصوں کو جوڑا گیا ہے،جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں بلیک میلنگ کی تفصیلات بتائیں، عدلیہ پر سنگین الزامات عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وزیر اعظم نے بھی عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی تحقیقات کی بات کی، سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

منیر صادق کے دلائل پر چیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں، سوموٹو عدالت خود لیتی ہے، کسی کی ڈیمانڈ پر لیا گیا نوٹس سوموٹو نہیں ہوتا، آپ کی درخواست بھی یہی ہے کہ ججز ڈیمانڈ پر نہ چلیں،لوگوں کے کہنے پر نوٹس لینے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال نہیں اٹھیں گے؟،آپ کی کیا تجویز ہے عدالت کیا کرے؟۔

چیف جسٹس کے استفسار پر منیر صادق نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لئے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے، عدالت جوڈیشل انکوائری کرائے تو زیادہ بہتر ہے، انکوائری کمیشن میں جو چاہے بیان ریکارڈ کرائے، انکوائری کمیشن الزامات اور جواب کی سچائی کا تعین کرے گا،منیر بہتر ہو گا کہ کوئی جج کمیشن کی سربراہی کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ذمہ دار لوگوں کو عمومی بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے، یہ کہنا درست نہیں کہ سب وکیل ، جج ، پولیس اور سیاست دان برے ہیں، جو لوگ برے نہیں ہوتے ان کی دل آزاری ہوتی ہے ، انسان کی پیدائش سے ہی سچ کی تلاش جاری ہے، سچ عدالت نے تلاش کیا تو اپیل لانے والے کیا کریں گے، کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے ثبوت نہیں ہو گی۔