کراچی پولیس کا اقدام ضمانت پر رہا ملزمان پر جلد ٹریکر لگانے کا فیصلہ

July 19, 2019 12:25 pm0 commentsViews: 8

ٹریکنگ سسٹم لگا کر ضمانتوں پر رہائی پانے والے ملزمان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے گی
کراچی میں چھوٹے تھانوں کو ضم کرکے بڑے تھانے بنائے جائیں گے، ایڈیشل آئی جی کی میڈیا سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ چھوٹے تھانوں کو ضم کرکے بڑے تھانے بنائے جائیں گے ابتدا میں تینوں زون میں ایک ایک ماڈل تھانہ بنایا جائے گا، تھانوں کی تعداد کم کر کے تھانیدار کو مکمل نفری اور وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔ کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کے ساتھ جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم لگایا جائے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے، شہر میں 8 سے 10 ہزار جرائم پیشہ بار بار وارداتیں کررہے ہیں زیادہ تھانے ہونے کی وجہ سے پولیس کی نفری کم پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری جانب شہریوں کی شکایات کا بھی بروقت ازالہ دشوار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقہ ایس ایچ او کے لیے بھی 15 سے 20 اہلکاروں کی نفری سے علاقے میں امن و امان قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے لہٰذا پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اپنا کام کر رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ سلیم واحدی آڈیٹوریم کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ 8 سال کے بعد سندھ پولیس میں واپس آیا ہوں اس سے قبل وہ خفیہ ادارے میں تھے، پولیس کی بہبود میری اولین ترجیح ہے، ایک سال پہلے پولیس افسران کے ریٹائرمنٹ کے کاغذات بننا شروع ہو جائیں گے پولیس ڈیوٹی کے اوقات کار 12 کے بجائے 8 گھنٹے ہوں، ڈیوٹی کے اوقات کار مرحلہ وار 8 گھنٹے کیے جائیں گے ڈیوٹی اوقات کار 8 گھنٹے کرنے کے لیے تھانوں کی تعداد کم کی جائے گی، چھوٹے تھانوں کے انضمام کے ذریعے تھانوں کی تعداد کم کی جائے گی، ابتدائی طور پر شہر کے 3 زون میں 3 ماڈل تھانے بنائے جائیں گے شہر میں 45 سے زائد تھانے نہیں ہونے چاہئیں۔