پاکستان سے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے چین منتقل

July 20, 2019 12:43 pm0 commentsViews: 13

سرمایہ کاروں نے چین میں نہ صرف کمپنیاں رجسٹرڈ کروا رکھی ہیں بلکہ چینی بینک میں اکائونٹ بھی موجود ہیں
پاکستانی خود کو چینی سرمایہ کار ظاہر کرکے سامان پاکستان بھجواتے ہیں جس سے ملکی خزانے کو زبردست جھٹکا
کراچی (کامرس ڈیسک) چین میں مقامی تاجروں کے ساتھ مل کر ایکسپورٹ اور امپورٹ کی کمپنیاں رجسٹرڈ کرکے پاکستان سے سالانہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کا انکشاف ہونے پر کسٹم انٹیلی جنس کے حکام نے چین سے 7 کمپنیوں کی جانب سے سیکڑوں کنٹینرز پر مشتمل 87 کھیپیوں کا ڈیٹا طلب کر لیا ہے جس میں اربوں کی مالیت کا سامان پاکستان میں 4 درآمدی کمپنیوں کو 2015ء سے اب تک سپلائی کیا گیا ہے، یہ نیٹ ورک دستاویزات میں ردوبدل کرکے چار ڈالر مالیت کی چیز سات سینٹ کی ظاہر کرتا رہا۔ اس انڈرانوائسنگ سے اربوں روپے کی ٹیکس چوری کی گئی۔ حاصل ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ کچھ پاکستانی سرمایہ کاروں نے چین میں نہ صرف کمپنیاں رجسٹرڈ کر رکھی ہیں بلکہ چینی بینکوں میں کمپنیوں کے نام پر اکائونٹ کھول رکھے ہیں، چین سے میٹریل درآمد کرنے والے پاکستان کے درجنوں تاجروں کی جانب سے حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم ان پاکستانیوں کی چینی کمپنیوں کے بینک اکائونٹس میں منتقل کی جاتی ہیں اور یہ پاکستانی سرمایہ کار خود کو چینی ایکسپورٹر ظاہر کرکے سامان پاکستانی کمپنیوں کو بھجواتے ہیں اس طرح سے حوالہ ہنڈی اور انڈر انوائسنگ کے ذریعے 2015ء سے اب تک ایک مخصوص مافیا نے اربوں ڈالرز کے مساوی منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کرکے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔