ضلع کونسل کراچی اور ٹھیکیداروں کی کروڑوں کی بھتہ خوری اسکینڈل بے نقاب

July 20, 2019 12:43 pm0 commentsViews: 29

قربانی کے جانوروں پر غیر قانونی ٹیکس کی مدمیں رقم بٹورنے کا سلسلہ شروع ہوگیا
متعلقہ چیف آفیسر، ٹھیکیدار حاکم علی جلبائی سمیت 4 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ضلع کونسل کراچی اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے 40 کروڑ کی بھتہ خوری شروع ہو گئی۔ قربانی کے جانوروں پر غیر قانونی ٹیکس کی مد میں رقم بٹورنے کا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔ دودھ دینے والے مویشیوں کے ٹھیکے میں بھی کروڑوں کا چونا لگانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن نے انکوائری مکمل کرکے متعلقہ حکام کو ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے چیف آفیسر، ٹھیکیدار حاکم علی جلبانی سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کردی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی لائے جانے والے دودھ دینے والے مویشیوں پر ٹیکس سابقہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی نے 2002ء میں پورے کراچی میں نافذ کیا تھا جس کے لیے باقاعدہ طور پر بائی لاز بھی منظور کیے گئے تھے۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی حدود چونکہ پورے کراچی پر مشتمل تھیں تو اس وقت شہر میں داخلی راستوں پر چونگیاں قائم کرکے یہ ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس مقصد کے لیے سپرہائی وے پر لکی سیمنٹ کے پاس اور نیشنل ہائی وے پر بابا بوہری کے پاس چونگیاں قائم کرکے اس ٹیکس کی وصولی شروع کی گئی۔ 2013ء میں ضلع کونسل کراچی کی بحالی کے بعد طاقتور سیاسی شخصیات اور رشوت خور افسران نے بااثر ٹھیکیدار سے ملی بھگت کرکے غیر قانونی طور پر اس ٹیکس وصولی کے اختیارات ضلع کونسل کراچی کو منتقل کروا دیے۔