عیدالاضحی کی آمد ٗ غیرقانونی مویشی منڈیاں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریڈار پر آگئیں

July 20, 2019 12:44 pm0 commentsViews: 46

شہر میں کسی بھی جگہ مویشی منڈیا ں قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ٗ مزاحمت کی صورت میں انتظامیہ اور پولیس سے مدد لی جائے ٗ قائم مقام میئر کراچی کی ہدایت
8مقامات کے علاوہ اگر کہیں مویشی منڈیاں قائم کی گئیں تو ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی ٗ غیرقانونی مویشی منڈیوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) قائم مقام میئر کراچی سید ارشد حسن نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر میں کسی بھی جگہ مویشی منڈیاں قائم کرنے کی اجازت جاری نہیں کرے گی، کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے 8 مقامات کے علاوہ اگر کہیں مویشی منڈیاں قائم کی گئیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اپنے دفتر میں عیدالاضحی کے موقع پر شہر میں قائم کی جانے والی غیر قانونی مویشی منڈیوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین کچی آبادی کمیٹی سعد بن جعفر، سینئر ڈائریکٹر ویٹرنری جمیل فاروقی، سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی، ڈائریکٹر لینڈ شیخ کمال احمد، ڈائریکٹر سٹی وارڈن راجہ رستم، ڈائریکٹر اسٹیٹ عمران قدیر، ڈائریکٹر اے اینڈ اے عمران احمد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے قائم مقام میئر کراچی نے کہاکہ شہر میں کچرے کی خراب صورتحال، متوقع بارشوں اور بیرون کراچی سے لائے جانے والے مویشیوں میں کانگو وائرس کے خطرے کے پیش نظر کسی بھی صورت میں شاہراہوں، سڑکوں، گلیوں اور رہائشی علاقوں میں مویشی منڈیاں قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ ان مویشی منڈیوں کے قیام سے شہر میں گندگی پھیلنے سے شہریوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے 8 مقامات میں سے 3 مقامات مواچھ گوٹھ، لانڈھی اور ملیر میں قائم کی جانے والی مویشی منڈیاں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی زمین پر قائم کی جاتی ہیں لہٰذا ان مقامات پر قائم کی جانے والی مویشی منڈیوں کے بیوپاریوں کو باقاعدہ چالان جاری کیے جائیں جہاں قربانی کے جانوروں کا معائنہ اور ویکسی نیشن کرکے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں تاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریونیو میں اضافہ ہو سکے، قائم مقام میئر کراچی نے ہدایت کی کہ مویشی منڈیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے دوران اگر کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا ہو تو انتظامیہ اور پولیس سے مدد لی جائے۔