زمین کو تباہی سے بچانے کیلئے انسانوں کے پاس صرف 12 سال رہ گئے ماہرین ماحولیات

July 25, 2019 11:16 am0 commentsViews: 11

اگر اقدامات نہ کئے گئے تو 2020 تک زمین جان لیوا حد تک زخمی ہوچکی ہوگی، آخر ہم چاہتے کیا ہیں، سیاسی طور پر اقدامات کرنا ہوں گے، ماہرین
آئندہ 18 ماہ اس بات کا تعین کریں گے کہ ہمیں کس سمت میں جانا ہے، عالمی سطح پر بڑھنے والی حدت اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز سے کیسے نمٹنا ہے، آئی بی سی سی
کراچی (نیوز ڈیسک) ماحولیات کے موضوع پر کام کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیات کو بچانے اور زمین کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے انسانوں کے پاس صرف 12 سال کا وقت رہ گیا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ 18 ماہ اس بات کا تعین کریں گے کہ ہمیں کس سمت میں جانا ہے کیونکہ اس عرصہ کے دوران ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ عالمی سطح پر بڑھنے والی حدت اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز سے کیسے نمٹنا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال ماحولیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی حکومتوں کے پینل (آئی پی سی سی) نے بتایا تھا کہ رواں صدی میں زمین کا درجہ حرارت ڈیڑھ ڈگری تک کنٹرول میں رکھنا ہوگا اور ساتھ ہی ماحول دشمن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کو 2030ء تک 45 فیصد تک کم کرنا ہوگا۔ لیکن اب ماہرین کہتے ہیں کہ 2020ء کو ڈیڈ لائن سمجھتے ہوئے یہ حتمی طور پر طے کر لیا جائے کہ ہم آخر کیا چاہتے ہیں، سیاسی طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کیا جاسکے۔ پوسٹ ڈیم کلائمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور ڈائریکٹر ہانس جوشم شیلن ہوبر کا کہنا ہے کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو 2020ء تک زمین جان لیوا حد تک زخمی ہو چکی ہوگی۔ حال ہی میں کامن ویلتھ وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ آئندہ 18 ماہ کے دوران ہم ماحول کو قابل برداشت حد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ساتھ ہی قدرت کے توازن کو بھی برقرار رکھنے کی جدوجہد کریں گے کیونکہ اسی میں ہماری بقا ہے۔ اس سلسلے میں ماحولیات کے موضوع پر 23 ستمبر کو نیویارک میں اہم اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صرف وہی ممالک کانفرنس میں شرکت کریں جو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ وہ کاربن کے اخراج کو نمایاں حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد چلی کے شہر سنتیاگو میں بھی اہم کانفرنس ہوگی جس میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔