کراچی میں سرکلر ریلوے بحال نہیں کی جاسکتی، سندھ حکومت

August 10, 2019 2:36 pm0 commentsViews: 9

کراچی: سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے اور دیگر منصوبوں سے متعلق اٹارنی جنرل، وفاقی سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری پلاننگ کو طلب کرتے ہوئے کے سی آر کی زمینوں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر اعلی سندھ نے کے سی آر اور دیگر منصوبوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ میں کراچی کے متوقع میگا منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے، سندھ حکومت نے سرکلر ریلوے کی بحالی سے ہاتھ اٹھا لیے، رپورٹ میں منصوبے کی بحالی کی مخالفت کردی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرانی سرکلر ریلوے بحال کرنا قابل عمل نہیں، سرکلر ریلوے کے 24 اسٹیشنز / گیٹس تھے جن پر تقریبا تجاوزارت قائم ہو چکیں، اگر سرکلر ریلوے بحالی ہوئی تو شہر چاک ہو جائے گا، سرکلر ریلوے کی اراضی پر کہیں گرین لائن تو کہیں پل بن چکے۔ سرکلر ریلوے کی جگہ بڑے پیمانے پر دیگر منصوبے شروع کر رہے ہیں، کراچی ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبوں سے روزانہ 6 لاکھ افراد سفر کر سکیں گے، ٹرام اور سرکلر ریلوے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر حکام نے عدالت کو متوقع منصوبوں پر بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ منصوبوں کو جال بچھا رہے ہیں، شہر کے چاروں طرف میگا ٹرانسپورٹ منصوبے بنائے جائیں گے، سی پیک منصوبے کے تحت نئی سرکلر ریلوے بھی بنائی جائے گی، بسیوں کے دیگر منصوبوں کو سرکلر ریلوے سے جوڑ دیا جائے گا، ٹرانسپورٹ کے میگا پروجیکٹس صوبائی، وفاقی اور چین کے اشتراک سے بنائے جائیں گے۔