جب سے کارروائی شروع ہوئی جھوٹے گواہ بھاگنے لگے‘ چیف جسٹس

August 23, 2019 12:18 pm0 commentsViews: 2

قتل کا ملزم جھوٹی گواہی کی بنیاد پر بری پولیس کی گواہی ناقابل قبول قرار نہیں دی جاسکتی
والدین بہن بھائیوں کیخلاف گواہی میں بھی سچ بولنا چاہیے‘جسٹس آصف سعیدکے ریمارکس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید خان کھو سہ نے کہا ہے کہ جب سے جھوٹے گواہوں کیخلاف کارروائی شروع ہوئی ہے جھوٹے گواہان بھاگنا شروع ہو گئے ہیں۔ گواہ جھوٹ بولتے ہیں تو قانون کا بھی سامنا کریں۔ قتل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ 1951 کے بعد جب سے چیف جسٹس منیر کا جھوٹی گواہی کے حوالے سے فیصلہ آیا معاملہ خراب ہوا کیونکہ عدالت نے فیصلے میں لکھ دیا کہ گواہ کو جھوٹ بولنے دیں ہم سچ اور جھوٹ کا خود پتا لگا لیں گے ، نہ تواسلام جھوٹ کی اجازت دیتا ہے اور نہ قانون،عدالت کیسے جھوٹ کی اجازت دے سکتی ہے ، کتنے لوگ جھوٹے گواہوں کی وجہ سے تکلیف اور مصیبت برداشت کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اللہ کیلئے سچے گواہ بن جا ناچاہیے ، چاہے والدین، بہن بھائیوں یا رشتے داروں کیخلاف گواہی کیوں نہ ہو،لیکن یہاں گواہ اللہ کا نام لیکر جھوٹ بول دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمہ میں نامزدملزم محمد ممتاز کو جھوٹی گواہی کی بنیاد پر بری کر دیا۔ 2007 میں محمد ممتاز پر نصراللہ نامی شخص کوقتل کرنے کاالزام لگایا گیاتھا۔ ایک اور کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پولیس کی گواہی کو ناقابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا، عدالتیں قانون کے مطابق پولیس کی گواہی پر انحصار کر سکتی ہیں۔سپریم کورٹ میں نفرت انگیز مواد پھیلانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے مجرم قاری اسحاق غازی کی بریت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پانچ سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔دو صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے کہا پولیس اور عام گواہ کی شہادت کیلئے معیار یکساں ہے ، پولیس اہلکار بھی اتنے ہی اچھے گواہ ہیں جتنا کوئی اور ہو سکتا ہے۔عدالت نے کہا یہ موقف درست نہیں کہ صرف پولیس کی گواہی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، کسی اور گواہ کی عدم موجودگی میں پولیس کی گواہی بھی کافی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا نفرت انگیز مواد پھیلانا ہی نہیں پاس رکھنا بھی بڑا جرم ہے۔