جولائی 2019ء پاکستان نے 440 ملین ڈالر کے نئے قرضے لیے

August 23, 2019 1:33 pm0 commentsViews: 13

اسلام آباد: جولائی 2019 میں پاکستان نے 440 ملین ڈالر کے نئے قرضے لیے جب کہ سی پیک کے بیشتر منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ہی اب پاکستان کے قرض حاصل کرنے کا رجحان چین سے دیگر ممالک اور اداروں کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ ماہ حاصل کردہ 440 ملین ڈالر کے قرضوں میں سے 173.3 ملین ڈالر بینک دبئی اور 50 ملین ڈالر Credit Suisse کے کنسورشیئم سے لیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے برعکس جب مجموعی قرضوں میں چین کی معاونت تقریباً نصف تھی جولائی 2019ء میں چینی قرضے سکڑ کر 439.8 ملین ڈالر کا دسواں حصہ رہ گئے،گزشتہ مالی سال چین نے پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں 2 ارب ڈالر کے فنڈز جمع کرائے تھے اور2.6 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے دیئے تھے۔ جاری منصوبوں کی تکمیل کے سبب چینی منصوبے کی مالی اعانت سست روی کا شکار ہے۔گذشتہ ماہ ، چین نے اورنج لائن میٹرو پروجیکٹ کے لئے 4ملین ڈالر اور سی پیک منصوبہ کے تحت حویلیاں – تھاکوٹ روڈ کے لئے 49 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی،جولائی میں چین کی کل ترسیلات 54.2 ملین ڈالر تھیں۔

پاکستان کو دبئی بینک اور سوئسی اے جی کیکنسورشیم کی جانب سے 137.1 ملین ڈالر مالیت کے دو تجارتی قرضے بھی ملے۔دبئی بینک نے جولائی میں 325 ملین ڈالر کی کل رقم میں سے 123.3 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی۔سوئس اے جی نے اپنی 250 ملین ڈالر کی کل وابستگی میں سے 50 ملین ڈالر کی رقم بھی فراہم کی۔ اس مالی سال کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ ضروریات کا تخمینہ کم سے کم 25.6 بلین ڈالر ہے،یہ تخمینہ رواں مالی سال کے دوران 6.6 بلین ڈالر کے مجوزہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

جولائی میں پاکستان نے 579 ملین کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برداشت کیا ،جو گذشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں 2.1 بلین ڈالر سے کم تھا،عالمی بینک کے کنٹری ہیڈ نے گزشتہ روز وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ سے ملاقات کی اور انہیں پروجیکٹ کے نئے قرضوں کی منظوری میں درپیش مشکلات اور کانٹریکٹ ایوارڈز میں تاخیر سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے ترقیاتی پروگرام پر گامزن ہے اور عالمی معیشت کے تکنیکی شعبے میں مالی معاونت پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں مختلف ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔