شہر قائد کی نمائندگی کی دعویدار جماعتیں آپس میں دست گریباں

August 24, 2019 11:33 am0 commentsViews: 1

کراچی میں قبل از وقت بلدیاتی انتخابات کے امکانات
کچرے، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، سیورج کے پانی کی وجہ سے تباہی کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار میئر کراچی اور سندھ حکومت کو قرار دیدیا
سیاسی رہنمائوں اور میئر کراچی کے درمیان لڑائیوں اور ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی اور غلیظ زبان استعمال کرنے سے عوامی حلقوں کو سخت مایوسی کا سامنا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی شہر میں ایسے وقت جب کچرے اور گندگی کے ڈھیر سے تعفن پھیل رہا ہے شہریوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں اور شہری انتہائی اذیت کا شکار ہیں۔ شہر قائد کی نمائندگی کی دعویدار جماعتیں آپس میں دست گریباں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی شہر کچرے، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، سیوریج کے پانی کی وجہ سے تباہی کی صورتحال پیش کر رہا ہے ایسے میں سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور میئر کراچی وسیم اختر کے درمیان لڑائیوں اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، غلیظ زبان استعمال کرنے، وال چاکنگ اور احتجاجی مظاہروں سے کراچی کی سیاسی صورتحال کی تبدیلی اور قبل ازوقت بلدیاتی انتخابات کے واضح امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جس طرح سے سندھ میں سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے آئندہ چند ہفتوں کو بہت اہم قرار دیا جارہا ہے اس ہی طرح سے کراچی شہر گندگی، کچرے کے ڈھیر، سیوریج کے پانی سے صورتحال انتہائی ابتر ہوگئی ہے اور اس صورتحال کا ذمہ دار میئر کراچی اور سندھ حکومت کو قرار دیا جارہا ہے اور ایسی صورتحال میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین اور سابق سٹی ناظم سید مصطفی کمال کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی، غلیظ زبان استعمال کرنے اور بڑے بڑے الزامات ایک دوسرے پر لگانے کے حوالے سے مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح امکانات نظر آرہے ہیں کہ سندھ میں بڑی اور نمایاں سیاسی تبدیلیاں ہونے جارہی ہیں جبکہ اس ہی حوالے سے قبل از وقت بلدیاتی انتخابات کے امکانات ہیں، کراچی کے سیاسی اور عوامی حلقوں کو سابق میئر کراچی اور موجودہ میئر کراچی کی آپس کی لڑائیوں اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔