سیف سٹی پروجیکٹ کراچی میں 20 ارب کی لاگت سے 10 ہزار کیمرے لگانے کی تیاری

August 24, 2019 11:55 am0 commentsViews: 4

کراچی کے ریڈ زون اور اہم تنصیبات و مقامات پر نصب کئے جائیں گے، جیسے ہی پروجیکٹ کام کرنا شروع کرے گا، پورے شہر میں کیمرے کی تنصیب شروع ہوجائے گی
محکمہ پولیس کی ٹیکنیکل کمیٹی میں سندھ، وفاقی حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر سے آئی ٹی ماہرین کو شامل کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ
کراچی (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہائوس میں ہوا جس میں چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، وزیر آئی ٹی تیمور تالپور، مشیر ماحولیات و قانون مرتضیٰ وہاب، آئی جی ڈاکٹر کلیم امام، چیئرپرسن منصوبہ بندی و ترقیات ناہید شاہ، پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری داخلہ قاضی کبیر، کمشنر کراچی افتخار شالوانی، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو 10 ہزار کیمرے نصب کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ10 ہزار کیمرے لگانے کا کام شروع کرنے کے لیے مکمل تیاری کی جاچکی ہے۔ کیمروں کی تفصیلات کی فنی تشخیص کروانا باقی ہے۔ کیمرے ایسے ہونے چاہئیں جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو بھی ریکارڈ کر سکیں۔ محکمہ پولیس کی ٹیکنیکل کمیٹی میں آئی ٹی سندھ، آئی ٹی وفاقی حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر سے آئی ٹی ماہرین کو شامل کیا جائے۔ 10 ہزار کیمرے کراچی کے ریڈ زون اور اہم تنصیبات اور مقامات پر نصب کیے جائیں گے جیسے ہی یہ پروجیکٹ کام کرنا شروع کرے گا پورے شہر میں کیمروں کی تنصیب شروع کی جائے گی۔ آئی جی آفس میں 28 اگست کو ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں پروجیکٹ کو فائنل کیا جائے گا وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو 15 دن کا وقت دیتے ہوئے کہاکہ اس پروجیکٹ کے تمام فنی پہلوئوں کو حتمی شکل دی جائے، دوسرا مرحلہ ٹینڈر کرنے کا ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ انسپکشن رپورٹ کنٹرول روم، سروے رپورٹ، ٹیکنیکل فزیبلٹی رپورٹ اور پی سی ون جمع کرائے جاچکے ہیں۔ یہ پروجیکٹ 20 ارب روپے سے زائد لاگت کا ہوگا۔ سیف سٹی پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے سندھ سیف سٹیز اتھارٹی (ایس ایس سی اے) قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔