مقبوضہ کشمیر میں محرم کے جلوس روک دئیے گئے ٗ مساجد میں جمعہ کو بھی تالے پڑے رہے

September 7, 2019 12:21 pm0 commentsViews: 5

بھارتی فورسز نے جلوس نکالنے کی کوشش کرنیوالے کشمیریوں پر دھاوا بول دیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے
سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز جمعہ کو بھی مسجدوں پر تالے پڑے رہے اور کشمیریوں کو نماز جمعہ سے روکا گیا، اس کے علاوہ محرم الحرام کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں کو بھی بھارتی فورسز نے روک دیا اور جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والوں پر دھاوا بول دیا، متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب اخبارات پر بھارتی حکام نے پابندی مزید سخت کردی۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے بھارتی قبضے اور نریندر مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف وسطی، شمالی اور جنوبی علاقوں میں جمع ہوکر کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باوجود زبردست مظاہرے کیے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نماز جمعہ کے فوراً بعد سرینگر، سوپور، حاجن، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے کرفیو اور دیگر پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مظاہرے کیے، انہوں نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے کئی مقامات پر مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ برسائے جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ پابندیوں کے باعث سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ علاقے کی دیگر مرکزی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔ مقبوضہ وادی کشمیر کا جو گزشتہ 33 دنوں سے فوجی محاصرے میں ہے بیرونی دنیا سے رابطہ مسلسل منقطع ہے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ مریضوں اور پیچیدہ امراض میں مبتلا لوگوں کو اسپتالوں میں جانے نہیں دیا جارہا جبکہ میڈیکل اسٹوروں پر ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ لوگوں کو بچوں کی غذا جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی سخت قلت کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے۔