کسی نے کلفٹن تو کسی نے واٹر بورڈ کی زمین بیچ دی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

September 7, 2019 1:11 pm0 commentsViews: 5

یہاں آکر سب اپنے آپ کو بے گناہ کہتے ہیں، سب بے گناہ ہیں لوگوں کو جائے نماز سے پکڑ کر لائے ہیں، ملزمان کے وکیل پر برہمی کا اظہار
آپ نے تحقیقات کی ہے نہ اس زمین کی فائل دیکھی، چیف جسٹس کے ریمارکس، آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکیل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیدیا
کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ نے سرکاری اراضی پر غیرقانونی سوسائٹیز بنانے سے متعلق ایک درخواست ضمانت میں ملزمان کے وکیل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی نے واٹربورڈ کی تو کسی نے کلفٹن کی زمین بیچ دی اور یہاں آکر سب اپنے آپ کو بے گناہ کہتے ہیں،یہاں سب بے گناہ ہیں اور لوگوں کو جائے نماز سے پکڑ کر لایا گیا ہے، سندھ ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکیل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیدیا۔ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو سرکاری زمین پر غیر قانونی سوسائٹی بنانے سے متعلق ذوالفقار شہلوانی اور ظفر اقبال کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر سوسائٹی بنانے کی انکوائری اور ضمانت سے متعلق دائر درخواستوں پر درخواست گزاروں کے وکیل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5 ہفتے تک ملتوی کردی۔ جمعہ کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر سوسائٹی بنانے کی انکوائری اور ضمانت سے متعلق سابق سیکرٹری اطلاعات ذوالفقار علی شلوانی اور ظفر اقبال کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت ڈی جی نیب کراچی پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت نے ڈی جی نیب سے استفسار کیا کہ انکوائری آپ کے پاس تھی آپ نے کچھ کیا کہ نہیں۔ آپ کو کیس کا پتا بھی ہے یا وقت کی کمی کے باعث آپ نے کیس نہیں دیکھا۔ جس پر ڈی جی نیب کا کہنا تھا کہ یہ مجھ سے پہلے کا معاملہ ہے ہم نے مزید انکوائری کرکے ضمنی ریفرنس کے لیے بھیجا ہے۔ دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ ملزم نے جو ایک ایکڑ اراضی فروخت کی ہے اس کی دستاویزات کہاں ہیں؟ سماعت کے موقع پر عدالت نے نیب حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے تحقیقات کی ہے نہ اس زمین کی فائل دیکھی۔ عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا موکل سوسائٹی کا چیئرمین تھا جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل بے گناہ ہے، اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔