جج ویڈیو کیس : عدالت نے تینوں ملزمان کو بری کردیا

September 7, 2019 2:41 pm0 commentsViews: 12

اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جج ارشد ملک وڈیو کیس میں گرفتار تین ملزمان ناصر جنجوعہ، غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کو عدم ثبوت کی بنا کر بری کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی مقامی عدالت کیس کی جج ویڈیو کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش میں ملزمان کےخلاف ثبوت نہیں ملے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے تحقیقاتی رپورٹ سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے انہیں کیس سے ڈسچارج کرنے کی سفارش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر کچھ دیر کے لیے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے تینوں ملزمان کو بری کردیا۔ عدالت نے ملزمان کی بریت کے فیصلے میں لکھا کہ ریکارڈ کے مطابق ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت ملا نہ ہی کوئی ریکوری ہوئی اور تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان پر ایف آئی آر میں درج الزامات ثابت نہیں ہوئے، جبکہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی ملزمان کو ڈسچارج کرنے سے متعلق تفتیشی افسر کی تائید کی۔

اس صورتحال میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا کوئی فائدہ نہیں لہذا انہیں بری کیا جاتا ہے۔ ملزمان کی اگر کسی اور کیس میں ضرورت نہیں تو فی الفور رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ جج ویڈیو کیس میں گرفتار 3 ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج عدالت پیش کیا گیا تھا تاہم سول جج شائستہ کنڈی کی ذاتی وجوہ کی بناء پر کیس سننے سے معذرت کے بعد مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد کی عدالت میں منتقل کیا گیا تھا۔