تعلیمی ایمرجنسی فلاپ سندھ میں 8 ہزار سرکاری اسکول بند

September 13, 2019 11:51 am0 commentsViews: 2

پانچ ماہ کے دوران بند کئے جانے والے اسکولوں کے عملے کو کروڑوں روپے تنخواہوں کی مد میں دیئے جارہے ہیں
صوبائی وزیر تعلیم کے اپنے ضلع میں 1215 اسکول بند ہیں، کراچی کے 101 سرکاری اسکول بند کئے جاچکے ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کا بھانڈا پھوٹ گیا، 5 ماہ میں سندھ کے 8 ہزار سے زائد سرکاری اسکول بند ہوگئے۔ رواں سال ماہ اپریل سے تاحال 8 ہزار سے زائد اسکول بند ہیں مگر عملے کو کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہوں کی مد میں دیے جارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں شرح خواندگی کو بڑھانے کے بجائے سرکاری اسکولوں کو تیزی کے ساتھ بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے، سندھ بھر میں 6 ہزار 171 بوائز پرائمری اسکول بند کیے گئے جبکہ 15 سو سے زائد گرلز پرائمری اسکول بند کرکے لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔ 198 گورنمنٹ بوائز لوئر سیکنڈری اسکولز اور 103 گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری اسکولز بند ہوچکے ہیں۔ 10 گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اور 15 بوائز ہائر سیکنڈری اسکول بند ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سابق وزیر تعلیم سردار شاہ کے اپنے حلقے میں 1215 اسکول بند ہوئے ہیں جبکہ تھرپارکر کے 708 اسکول بند ہوئے، بے نظیر بھٹو شہید کے نام سے منسوب شہر شہید بے نظیر آباد کے 539 اسکول بند ہوگئے، کراچی کے 101 سرکاری اسکول بند کیے گئے۔ بدین کے 145، دادو کے 320، گھوٹکی کے 161، حیدرآباد کے 61، جیکب آباد کے 147، جامشورو کے 89، قمبرشہداد کوٹ کے 172، کشمور کے 361، خیرپور کے 431، لاڑکانہ کے 57، مٹیاری کے 50، میرپورخاص کے 351، نوشہروفیروز کے 275، سجاول کے 457، سانگھڑ کے 517، شکارپور کے 428، سکھر کے 278، ٹنڈوالہیار کے 270، ٹنڈو محمد خان کے 402، تھرپارکر کے 708، ٹھٹھہ کے 543 اسکول رواں سال بند کیے جاچکے ہیں۔