مصباح تھری ان ون پی سی بی کا پھر سرفراز پر بھروسہ‘ بابر اعظم نائب کپتان بن گئے

September 14, 2019 11:29 am0 commentsViews: 6

سری لنکا ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار نہیں کیا‘ احسان مانی‘صرف کپتان کو مورد الزام ٹہرانا غلط ہے‘ مصباح
پاکستان اور سری لنکا کی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی سیریز 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک جاری رہے گی‘پریس کانفرنس
لاہور(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے سرفراز احمد کو قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کو قومی کرکٹ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کردیا گیا۔ پاکستان کر کٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ سری لنکا کے خلاف سیریز پاکستان میں ہی ہوگی، دوسرے وینیو کا اب وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار نہیں کیا ہے۔دوسری طرف انہوں نے کہا کہ مصباح کی موجودگی میں بیٹنگ کوچ کی ضرورت نہیں ، سابق کپتان سے اچھا بیٹنگ کوچ کون ہو سکتا ہے۔دوسری طرف قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کی پر فارمنس میں تسلسل نہیں ہے ، صرف کپتان کو مورد الزام ٹہرانا غلط ہے۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کے ہمراہ قذافی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے سرفراز احمد کو قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بابر اعظم کو قومی کرکٹ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا اور کہا کہ وہ ٹاپ بیٹسمین ہیں امید ہے ان کی بطور کپتان تربیت ہو گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی سیریز 27 ستمبر سے 9 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ سرفراز احمد 2017 سے تینوں فارمیٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم 4 ٹیسٹ، 26 ایک روزہ اور 29 ٹی ٹونٹی میچز میں کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ بابر اعظم آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے ، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور ٹیسٹ میں 13ویں بہترین بیٹسمین ہیں۔ پی سی بی کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور نائب کپتان کی تقرری کے لئے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم مصباح الحق اور پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے دونوں ناموں کی سفارش کی تھی۔ سرفراز کی تقرری کی مدت کے بارے میںسوال پر چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ تقرری سری لنکا سیریز کے لئے کی ہے تاہم نئی مینجمنٹ اور ٹیم کی کارکردگی دیکھنا ہوگی اور اس میں کسی قسم کے اندازے نہیں لگانے چاہئیں۔