بینکوں پر تعینات سیکورٹی گارڈز تھک کر سونے لگے ڈکیتیاں بڑھ گئیں

September 14, 2019 12:02 pm0 commentsViews: 2

قانون سازی نہ ہونے کے باعث سیکورٹی گارڈز پس رہے ہیں، تنخواہ اور مراعات کیلئے کوئی طریقہ کار وضع نہیں
سیکورٹی گارڈز کی تقرری اور اوقات کار پر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے، سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہائی کورٹ نے ملک میں سیکورٹی گارڈز کی تقرری سے متعلق کوئی پالیسی اور قانون نہ ہونے سے متعلق فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سیکورٹی گارڈز کی بھرتیاں ابھرتا ہوا معاملہ ہے سیکورٹی گارڈز کی تقرری اور اوقات کار پر قانون سازی کی ضرورت ہے طویل اوقات کے باعث سیکورٹی گارڈز تھکن سے سو جاتے ہیں اور ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ملک میں سیکورٹی گارڈز کی تقرری سے متعلق کوئی پالیسی اور قانون نہ ہونے سے متعلق سیکورٹی گارڈز سے 12 گھنٹے ملازمت کرنے کے خلاف آل پاکستان سیکورٹی گارڈز ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل ملک طاہر اقبال ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ نیشنل بینک نے ملک بھر میں 4 ہزار سیکورٹی گارڈز کی بھرتی کا ٹینڈر جاری کیا ہے جس میں سیکورٹی گارڈز کے اوقات کار 12 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں، قانون سازی نہ ہونے کے باعث سیکورٹی گارڈز پس رہے ہیں، سیکورٹی گارڈز کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے متعلق بھی کوئی طریقہ کار وضع نہیں، سیکورٹی گارڈز کے اوقات کار کو 8 گھنٹے ہی مقرر ہونا چاہیے۔ اگر 8 گھنٹے سے زائد ڈیوٹی لی جاتی ہے تو اس کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سیکورٹی گارڈز کی بھرتیاں ابھرتا ہوا معاملہ ہے سیکورٹی گارڈز کی تقرری اور اوقات کار پر قانون سازی کی ضرورت ہے طویل اوقات کے باعث سیکورٹی گارڈز تھکن سے سو جاتے ہیں اور ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔