کراچی سمیت سندھ بھر کے اساتذہ بپھر گئے پریس کلب کے باہر دھرنا 15 روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان وزیر اعلیٰ ہائوس کی جانب دوبارہ مارچ کا عندیہ

September 17, 2019 12:30 pm0 commentsViews: 7

سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہیڈ ماسٹر کا وفد سیکریٹریٹ سے خالی ہاتھ واپس آگیا
جب تک نئے سیکریٹری تعلیم اپنا چارج نہیں سنبھالتے آپ اپنا احتجاج مؤخر کردیں، ڈپٹی سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری و دیگر افسران کا اساتذہ کو جواب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی سمیت سندھ بھر کے آئی پی اے ٹیسٹ پاس 957 ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس نے مستقلی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دے دیا ہے اور 15 روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 2 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہائوس کی جانب دوبارہ مارچ کا عندیہ بھی دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل کراچی سمیت سندھ بھر کے آئی پی اے ٹیسٹ پاس 957 ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا اور ریڈ زون کی خلاف ورزی پر پولیس نے لاٹھی چارج، واٹر کینن کا استعمال کیا تھا اور متعدد ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔ بعدازاں گرفتاری پر مشتعل ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کی جانب سے ریڈ زون پر دھرنا دیے جانے کے بعد تمام گرفتار ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کی رہائی ممکن ہوئی تھی اور اگلے روز سیکرٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز سے مذاکرات کرنے پر دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ہیڈ ماسٹرز کا وفد 12 بجے دوپہر کو سیکریٹریٹ پہنچا تو معلوم ہوا کہ سیکرٹری اسکول ایجوکیشن قاضی شاہد پرویز کو ہٹا دیا گیا ہے اور نئے سیکرٹری نے ابھی تک چارج نہیں سنبھالا ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری عبدالحفیظ مہیسر، ایڈیشنل سیکرٹری پاشا اور دیگر افسران کا کہنا تھا کہ جب تک نئے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن اپنا چارج نہیں سنبھال لیتے اس وقت تک ہم آپ سے کچھ بات نہیں کرسکتے ہمیں 2 سے 3 دن تک کا وقت دیا جائے جب تک آپ اپنا احتجاج موخر کر دیں جس پر احتجاجی ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس نے کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دینے اور 15 روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 2 اکتوبر تک وزیراعلیٰ ہائوس کی جانب مارچ کرنے کی دھمکی دے دی۔