کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ہیں اے آئی جی کا اعتراف

October 8, 2019 11:26 am0 commentsViews: 4

شہر میں 60 فیصد وارداتیں منشیات کے عادی افراد کررہے ہیں، نشئی افراد کی بحالی کیلئے سینٹر قائم کرنے کیلئے سندھ حکومت کو خط لکھ دیا ہے
اسٹریٹ کرمنلز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی ہے، پولیس کا ہدف ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دلوانا ہے، غلام نبی میمن کی میڈیا سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی 60 فیصد وارداتوں میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہیں، منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے میمن گوٹھ میں قائم ایک سینٹر حاصل کرنے کے لیے محکمہ صحت کو خط لکھ دیا گیا ہے، سینٹر سی پی ایل سی کے سپرد کر کے پولیس کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ ایڈیشنل آئی جی نے اعتراف کیا کہ گزشتہ 20 روز کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ پولیس کا محرم الحرام اور پاک سری لنکا میچوں کی سیکورٹی میں مصروف ہونا ہے۔ گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہاکہ حالیہ کچھ ماہ اور گزشتہ چند سال کے جرائم کی شرح کا موازنہ کیا جائے تو اس میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آئے گا، البتہ گزشتہ 20 دن کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھی ہیں اس دوران بدقسمتی سے میڈیکل کی طالبہ مصباح اطہر کا دوران ڈکیتی قتل بھی شامل ہے۔ پولیس نے اسٹریٹ کرمنلز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی ہے پولیس کا ہدف اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انہیں سزائیں دلوانا ہے اس سلسلے میں پولیس کے شعبہ تفتیش کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے تاکہ گرفتار ملزمان کے خلاف موثر تفتیش ہو سکے، شہر میں 60 فیصد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں نشئی ملوث ہیں، منشیات کے عادی نشئی اپنے نشے کے لیے وارداتیں کرتے ہیں، اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے سی پی ایل سی، محکمہ سماجی بہبود اور حکومت سندھ سے بات کی جارہی ہے۔