اہم اداروں کا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشت گردی کا خدشہ

October 9, 2019 11:11 am0 commentsViews: 5

دہشت گردی کا خدشہ سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دینے پر غور کیا جارہا ہے، حتمی فیصلہ وزیر اعظم کی اہم اداروں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، ذرائع کا انکشاف
وفاقی حکومت نے آزادی مارچ رکوانے کے لئے بیک ڈور ڈیل کا آغاز بھی کردیا، وزیر اعظم کی جانب سے اس حوالے سے قومی اسمبلی کے اسپیکر سمیت پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو ذمہ داری سونپ دی گئی
اسلام آباد (آن لائن/مانیٹرنگ ڈیسک) اہم اداروں نے حکومت سے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشت گردی کے خدشے کا اظہار کردیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت مخالف آزادی مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد اہم ادارے متحرک ہو گئے ہیں، دہشت گردی کا خدشہ سامنے آنے پر حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں آزادی مارچ کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں وزیراعظم اہم اداروں سے مشاورت کے لیے اجلاس طلب کریں گے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزارت داخلہ نے صوبوں سے مولانا فضل الرحمن کے حمایتی مدارس، ان کے اساتذہ اور طلبہ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں کی لسٹیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے 27 اکتوبر کو جے یو آئی کا آزادی مارچ رکوانے کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی کا بھی آغاز کر دیاہے، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنمائوں کو ذمہ داری سونپ دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومتی شخصیات کی جانب سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اب تک کیے گئے رابطوں میں وفاقی حکومت کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے آزادی مارچ رکوانے کے لیے آپشن نمبر2 پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی قیادت میں اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ 27 اکتوبر کے آزادی مارچ کو کس طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔