بلدیہ غربی بااثر چوکیدار نے ہزاروں طلباء کا مستقبل دائو پر لگادیا

October 9, 2019 11:25 am0 commentsViews: 5

شیر محمد کی بطور ڈائریکٹر محکمہ تعلیم تعیناتی کے بعد بلدیہ غربی کے اسکولوں کا معیار تعلیم تباہ ہو کر رہ گیا
اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا حکومت سندھ اور چیئرمین سے چوکیدار کو ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ
کراچی (وقائع نگار خصوصی) بلدیہ غربی کے انتہائی اہم محکمہ تعلیم میں ڈائریکٹر کے عہدے پر مبینہ طور پربااثر چوکیدار کی تعیناتی نے ہزاروں طالب علموں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، محکمے کے سینئر افسران اور بلدیہ غربی کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا حکومت سندھ اور چیئر مین بلدیہ غربی سے چوکیدار کو فوری طور پر ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا نے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ غربی کے اہم ترین محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے عہدے پر حکام نے گریڈ1میں چوکیدار بھرتی ہونے والے شیر محمد کو تعینات کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق شیر محمد 1992میں بطور چوکیدار گریڈ 1میں بھرتی ہوا تھا تاہم اس دوران حکومت سندھ محکمہ بلدیات کے افسران سے مبینہ طور پر تعلقات استوار کرکے1999 میں خلاف ضابطہ اپنا کیڈر تبدیل کراکر گریڈ 5 میںبطور کلرک ترقی حاصل کرلی اسی طرح ایک بار پھرجولائی2005میں گریڈ 5سے گریڈ14میں خلاف ضابطہ کیڈر تبدیل کرکے جونیئر اسکول ٹیچر ترقی حاصل کی بعد ازاں ایک بار پھر شیر محمد نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے ستمبر2008میں گریڈ 14سے گریڈ16میں بطور ہائی اسکول ترقی حاصل کرلی اس دوران شیر محمد کی خلاف ضابطہ ترقیوں پر سینئر اساتذہ کی جانب سے مسلسل حکام کو شکایات کی جاتی رہیں تاہم حکام نے اساتذہ کی شکایات اور قوانین کی پروا نہ کرتے ہوئے شیر محمد پر نوازشات کی برسات جاری رکھی جبکہ ضابطے کے مطابق کسی بھی سرکاری ملازمین کے کیڈر کی تبدیلی کے لئے چیف سیکریٹری اور وزیر اعلی کی منظوری لینا لازمی ہے اسی طرح ہائی اسکول ٹیچر کے لئے استاد کو بی ایڈ اور ایم ایڈ پاس ہونا بھی لازمی ہے تاہم حکام نے قوانین کے برخلاف پے در پے ترقیاں حاصل کرنے والے شیر محمد خان کی تیز رفتاری اور غیر قانونی ترقیوں پر قانونی چار جوئی کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔