مہران ٹائون مکینوں کا پولیس اور لینڈ مافیا کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

October 9, 2019 11:50 am0 commentsViews: 5

کے ڈی اے افسران، پولیس اور لینڈ مافیا کے کارندے جعلی فائلیں بنا کر لوگوں سے زبردستی مکانات خالی کراتے ہیں
ڈی ایس پی اور ایس ایچ او آدھی رات کو گھروں میں داخل ہو کر خواتین اور بچوں کو تھانے لے جاتے ہیں، مظاہرین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہران ٹائون کے مکینوں نے علاقے کے ڈی ایس پی، ایس ایچ او شریف آباد اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران کے خلاف مبینہ جعلی فائلیں بنانے اور گزشتہ تیس برس سے رہائش پذیر مکینوں کو بے گھر کرنے کے خلاف احتجاج کیا، احتجاج میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او پوری فیملی کو تھانے میں بند کرکے گھر کو مسمار کر دیتا ہے جس کے بعد جعلی فائل رکھنے والے لینڈ مافیا کے کارندوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے گھروں کو پولیس کی سرپرستی میں لینڈ مافیا کے ہاتھوں مسمار کرنے کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے اور صدر و وزیراعظم سمیت متعلقہ حکام اور نیب سے درخواست کی ہے کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران، پولیس اور لینڈ مافیا کے کارندے جعلی فائلیں بنا کر لوگوں سے زبردستی مکانات خالی کراتے ہیں، علاقہ مکینوں نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس کے ڈی ایس پی اور تھانہ ایس ایچ او بھی رات کو لوگوں کے گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو بچوں سمیت تھانے لے جاتے ہیں جہاں ان کو ہراساں کرکے ان سے زبردستی انگوٹھے لگوا کر مکان کو مسمار کرنے کے بعد ان کو تھانے سے اس شرط پر چھوڑتے ہیں کہ مہران ٹائون میں نظر نہیں آئو گے اور مسمار شدہ مکان کو لینڈ مافیا کے حوالے کر دیتے ہیں، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بغیر بتائے گھر مسمار کرکے پولیس لاکھوں روپے لے کر جعلی فائل مافیا کو قبضہ دیتی ہے اور اگر کوئی مالک مکان زیادہ شور شرابہ کرتا ہے تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے یہاں پولیس کی جانب سے عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جاتا ہے سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے اور گھروں کی تمام اشیاء ضائع کر دی جاتی ہیں۔