اپوزیشن جماعتوں کا 4 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان

October 9, 2019 11:50 am0 commentsViews: 3

وزیر اعظم استعفیٰ دیں، حکومت ختم کی جائے، نئے صفاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے، اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ کیا جائے، رہبر کمیٹی کا اجلاس
سی پیک سے متعلق اتھارٹی کے بارے میں صدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار، پاکستان کے معاشرے کو فوجی معاشرہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اپوزیشن رہنمائوں کی نیوز کانفرنس
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/صباح نیوز) حکومت مخالف تحریک کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے بلائے گئے آج اپوزیشن کے رہبر کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا، حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد کمیٹی کے رہنمائوں نے نیوز کانفرنس کی، اکرم خان درانی نے کہاکہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا، آج بھی اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا کہ حکومت کو گرانا ہے۔ اکرم درانی کا کہنا تھا ہم یہ چاہتے ہیں وزیراعظم عمران خان فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے طریقے سے الیکشن کرائے جائیں، جے یو آئی (ف) کے رہنما نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ملکی خزانے کو خالی کر دیا ہے، مزدور طبقہ بے روزگار، معاشی صورتحال بگڑتی جارہی ہے، کے پی کے میں ڈاکٹرز نے 10 دنوں سے ہڑتال کی ہوئی ہے جب بھی اسمبلی جاتا ہوں باہر کوئی نہ کوئی ہڑتال کی ہوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن سب سے پرانے سیاستدان ہیں ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن طریقے سے آزادی مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں تمام اقدامات جمہوری طریقے سے انجام کو پہنچائیں، یقین دلاتے ہیں اپوزیشن متحد ہے اور حکومت کو ختم کرنا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے چار نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم استعفیٰ دیں اور حکومت ختم کی جائے، نئے صاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے، اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں نے سی پیک سے متعلق اتھارٹی کے بارے میں صدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشرے کو فوجی معاشرہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے قبل سابقہ فاٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لیے بھی فوجی افسر کو تعینات کرنے کا قانون جاری کیا گیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افتخار حسین اور دیگر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔