اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر تشدد کا افسوسناک واقعہ

October 17, 2019 12:05 pm0 commentsViews: 14

پاکستانی معاشرہ اخلاقی طور پر کس قدر گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے اس کی ایک جھلک گزشتہ روز کراچی میں دیکھنے میں آئی جب وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین پر طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور آدھا گھنٹہ گاڑی میں محصور رکھنے کے بعد کھینچ کر سڑک پر گھسیٹا اور لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی، کپڑے پھاڑ دیے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچنے کے باوجود تماشہ دیکھتی رہی۔ واقعہ پر اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ملک گیر احتجاج شروع ہوگیا۔ وفاقی اردو یونیوسٹی کے اساتذہ نے جامعہ کے تینوں کیمپس میں کلاسز کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ وائس چانسلر پر تشدد کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں بھی اساتذہ اور یونیورسٹی اسٹاف و ممبران سڑکوں پر نکل آئے اور شدید مذمت کرتے ہوئے تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ احتجاجی اساتذہ کا کہنا تھا کہ آئے روز تشدد کے بڑھتے واقعات پر انتظامیہ کا کارروائی نہ کرنا افسوسناک ہے، اساتذہ ہی محفوظ نہیں باقی کس کو تحفظ حاصل ہوگا۔ ملزمان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو تدریسی عمل بند کر دیں گے۔ کراچی میں پیش آنے والا یہ واقعہ یقینا بہت ہی افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ معاشرے میں طلبہ کے ہاتھوں اساتذہ تک محفوظ نہ ہوں وہ بھلا کس طرح ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرتے ہوئے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی، ورنہ ہم بدترین قوموں میں شمار ہونے لگیں گے۔