ہر سنگین جرم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا،چیف جسٹس

October 17, 2019 12:50 pm0 commentsViews: 2

اس کیس میں قتل ذاتی دشمنی کی بنا پر ہوا، دہشت گردی کی تعریف پر اس ماہ فیصلہ دینگے، جسٹس آصف سعید کھوسہ
عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی کے مجرم کالے خان کورہا کر دیا‘اس نے عدالتی احاطہ میں اپنے مخالف کو قتل کیا تھا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ہر سنگین جرم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دہشت گردی کے مجرم کی عمر قید کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کے بعد دہشت گردی کے مجرم کالے خان کورہا کر دیا۔کالے خان نے عدالتی احاطہ میں اپنے مخالف غلام محمد کو قتل کیا تھا۔ اسے ٹرائل کورٹ نے سزائے موت اور ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں قتل ذاتی دشمنی کی بنا پر ہوا، ہر سنگین جرم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا، دہشت گردی کی تعریف پر اس ماہ فیصلہ دینگے، جس کے بعد بہت سے ابہام دور ہو جائیں گے۔