وزیراعظم کا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم

October 19, 2019 12:57 pm0 commentsViews: 2

صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں‘ کاشتکار اور کسان کا استحصال نہ ہو، آڑھتی ناجائز منافع خوری نہ کریں
گندم، چینی، گھی، دالیں، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں کا جائزہ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور افراط زر پر قابو پانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو اشیائے خوردونوش خصوصاً گندم، چینی، گھی، دالیں، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں کا جائزہ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔گندم کی فراہمی، دستیابی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو منظم رکھنے کے حوالے سے صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ گندم کے مناسب ذخیرے کو یقینی بنانے اور قیمت کو قابو میں رکھنے کے ضمن میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی جانب سے اطمینان بخش انتظامات کیے گئے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اس سال گندم کی خریداری نہ کرنے کے باعث طلب اور رسد میں فرق پیدا ہو گیا، اس اقدام کے باعث نہ صرف گندم اور آٹے کی قیمتیں بڑھیں بلکہ عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا، پاسکو اپنے موجود اسٹاک سے صوبہ سندھ کو ایک لاکھ ٹن اور صوبہ خیبرپختونخوا کو ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم فوری طور پر ریلیز کرے تاکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھا جا سکے۔وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاشتکار اور کسان کا استحصال نہ ہو اور آڑھتی ناجائز منافع خوری نہ کریں، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیاجائے۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ تحصیل کی سطح پر مارکیٹ کمیٹیاں تشکیل دے کر ان کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے، منافع خور عناصر کی اجارہ داری پر موثر طور پر قابو پایا جاسکے اور قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے، اس ضمن میں صوبائی حکومتیں ایک ہفتے میں مربوط نظام وضع کریں۔عمران خان نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم اور آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے فی الفور تجاویز مرتب اور موثر فیصلے کرے، اور گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے تحت درآمد سمیت تمام انتظامی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر لیے جائیں۔جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے اشیائے ضروریہ کے لیے ’’درست قیمت‘‘ ایپلی کیشن پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ عوام کو اشیائے خوردو نوش کی اصل قیمتوں کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر آگاہی میسر آسکے، منڈی سے مارکیٹ کے تمام عمل کو شفاف، سہل اور آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔وزیراعظم آفس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیراعلیٰ پنجاب سر دار عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری، وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔