سول اسپتال سے دوائوں اور قیمتی اشیاء کی چوری معمول بن گئی

October 22, 2019 12:38 pm0 commentsViews: 8

سرکاری ادویات اور قیمتی اشیاء بوروں اور ڈبوں میں ڈال کر پہلے کچرا کنڈی بھجوائی جاتی ہیں اور وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا جاتا ہے
دوائوں کی چوری میں ملوث اسپتال کا ملازم بھینسوں کے باڑوں ٗ نجی نرسنگ اسکولوں اور فلیٹوں کا مالک بن چکا ہے
کراچی(پ ر) سول ہسپتال کراچی حکومتی جماعت کی ذیلی تنظیم کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، سیکریٹری صحت کے حکم کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سروس رولز کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے انہیں منانے میں مصروف ،غریب مریضوں کی دواؤوں سمیت ایکسرے فلمیںاور سرجری میں استعمال ہونے والے ڈسپوزیبل قیمتی سامان کی یومیہ چوری معمول بن گئی ،ہسپتال کی انتظامیہ کے ذمہ داروں کے مطابق چوری کی وارداتوں کا سرغنہ لیاقت مستوئی ہے جو اس سے قبل بھی دسمبر 2016ء میں سول ہسپتال کی سرکاری دوائیںبلدیہ ٹاؤن میں فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد طویل عرصہ جیل میں بھی رہا لیاقت مستوئی وارڈ بوائے ہے لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس یہ گزشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے سول ہسپتال کے اسٹور میں ٹیبلیٹ سیکشن کا غیر قانونی انچارج بنا ہوا ہے اور سول ہسپتال میں چوری کا منظم گروہ قائم کررکھا ہے جس میں سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس نرسنگ اردلی عبدالکریم خان کو سیکورٹی انچارج لگواکر شاہ زیب سپروائزر کی نگرانی میں یومیہ بنیاد پر خالی پلاسٹک کے بوروں اور گتے کے ڈبوں میں صفائی کمپنی کے عارضی جمعداروں کے ساتھ مل کر چوری کی دوائیں پہلے کچرا کنڈی میں پھنکوائی جاتی ہیں پھر وہاں سے شاہ زیب کی نگرانی میں چوری کی دوائیں لیاقت مستوئی کے بھینسوں کے باڑے مچھر کالونی ماڑی پورروڈ سے فروخت کے لئے آگے جاتی ہیں۔ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خادم حسین قریشی نے بوری بھری چوری کی دوائیں کچراکنڈی لے جاتے ہوئے پکڑیں تو چوروں کا یہ منظم گروہ حکومتی جماعت کی ذیلی تنظیم کے رہنما قیوم خان مروت کے ہمراہ لشکر کی صورت میں ایم ایس آفس پہنچا اور تمام افسروں کو یرغمال بناکرہسپتال کی انتظامیہ کو نہ صرف مذکورہ چوری کی تھانے میں جاکر ایف آئی آر درج کرانے سے روکا بلکہ اپنی لاقانونیت کی پردہ پوشی کے لئے مقامی ہوٹل میں ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے دعوت بھی رکھوائی ۔ذرائع کے مطابق قیوم مروت سابق وزیر عرفان اللہ مروت کے دورمیں وارڈ بوائے کی حیثیت سے بھرتی ہواتھا۔کئی نرسنگ اسکولوں کے مالک ہونے کے علاوہ کلفٹن، باتھ آئی لینڈ اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر لگژری فلیٹوں کا مالک بھی ہے ۔