اسٹریٹ کرمنلز کو نشان عبرت بنانے کیلئے نئی قانون سازی کا اعلان

October 22, 2019 12:38 pm0 commentsViews: 10

رواں سال جنوری سے ستمبر تک اسٹریٹ کرائمز کی واردارتوں کے دوران 298افراد کوہلاک کردیا گیا میرے لئے ایک ہلاکت بھی تشویشناک ہے ٗ وزیراعلیٰ سندھ
کراچی آپریشن کے بعد امن وامان کی صورتھال کافی بہتر ہوئی ہے ٗ مگر اس پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ٗ مراد علی شاہ کا مجلس عمل کے رکن کے توجہ دلائو نوٹس پر جواب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے رکن کے توجہ دلائو نوٹس کہ جنوری تا ستمبر اسٹریٹ کرائم میں 298 افراد کی ہلاکت پر کہا ہے کہ میرے لیے ایک ہلاکت بھی تشویش ناک ہے، کراچی آپریشن کے بعد امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی مگر اس پر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے، اسٹریٹ کرائم کے کنٹرول اور اسٹریٹ کرمنلز کو نشان عبرت بنانے کے لیے انہوں نے نئی قانون سازی کرنے کا اعلان کیا، وہ متحدہ مجلس عمل کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کے اسٹریٹ کرائم پر توجہ دلائو نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔ سید عبدالرشید کے اسٹریٹ کرائم پر توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ جن کے پاس سندھ کے وزیر داخلہ کا بھی قلمدان ہے نے ایوان کو بتایا کہ اسٹریٹ کرمنل کے ہاتھوں قتل کے واقعات تشویشناک ہیں امان و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر آج بھی امن خراب ہے، عزیز آباد میں فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی جس کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسٹریٹ کرائمز اور بدامنی کے سب سے زیادہ واقعات ضلع سینٹرل میں ہوئے ہیں، میرے لیے ایک ہلاکت بھی تشویشناک ہے یومیہ اسٹریٹ کرائم کے 18 فیصد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ اگر قانون میں ترمیم کرنی پڑی تو کریں گے، ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث بھی جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے چاہتے ہیں معاشی صورتحال بہتر ہو، بے روزگاری کے باعث جرم کرنے کی ہم حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کے ساتھ انٹیلی جنس کو بڑھایا اور رینجرز کو بھی پولیس کے اختیار کے تحت تعینات کیا ہے کہ وہ اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کارروائی کریں۔