آزادی مار چ سے روکنے کیلئے نوازشریف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،حسین نواز

October 23, 2019 12:44 pm0 commentsViews: 5

ورنہ اور کیاوجہ ہوسکتی ہے؟ کہ انہیں کوٹ لکھپت سے نیب منتقل کردیا گیا، قید تنہائی میں رکھا گیا
اخبارات بھی بند،تفتیش تو نیب سے جاکر بھی ہوسکتی ہے، عوام کی دعاؤں سے طبیعت بہتر ہے
نوازشریف کو اللہ نے دوبارہ زندگی عطا کی ہے،اللہ کا شکر ہے‘نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ آزادی مار چ سے روکنے کیلئے نوازشریف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،ورنہ اوروجہ ہوسکتی ہے؟ کہ انہیں کوٹ لکھپت سے نیب منتقل کردیا گیا، انہیں قید تنہائی میں رکھا گیاہے اورخبارات بھی بند کردیے گئے، جبکہ نیب سے جاکر بھی کوٹ لکھپت میں تفتیش ہوسکتی ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صحت سے متعلق بتایا کہ میں سب اپنے بہن بھائیوں ،کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتاہوں،جنہوں نے ان کی صحتیابی کیلئے دعا کی۔نوازشریف کو اللہ نے دوبارہ زندگی عطا کی ہے،اللہ کا شکر ہے اب ان کی طبیعت خطرے سے باہر ہے ، اور طبیعت بہتری کی جانب مائل ہے۔حسین نواز نے بتایا کہ میاں صاحب کے بلڈ میں کسی قسم کی انفیکشن یا ڈینگی نہیں ہے، نوازشریف کو بہت سی بیماریاں لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پہلے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرچکا ہوں،ملک کی جو تاریخ ہے اس میں قائد اعظم کے ساتھ کیا ہوا؟ ان کی ہمشیرہ کے ساتھ کیا ہوا؟لیاقت علی خان،ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹوکے ساتھ کیا ہوا؟اس کے بعد بھی میں خدشات کا اظہار نہ کروں؟ان کو شک کا فائدہ دوں؟پھر سب جانتے ہیں میاں صاحب کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ایسے کون سے سوالات تھے کہ میاں نوازشریف کو کوٹ لکھپت جیل سے نیب حوالات میں منتقل کیا گیا؟کوٹ لکھپت کے جسطرح کے انتظامات بھی تھے وہ بھی لے لیے گئے؟سب کو پتا ہے کہ میاں نوازشریف کے ساتھ کیا سلو ک ہو رہا ہے، نوازشریف کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ان سے اخبارات بھی بند کردیے گئے۔نوازشریف کو کوٹ لکھپت جیل میں سکیورٹی اور تحفظ تھا۔نوازشریف کے تین بار جیل میں بلڈ ٹیسٹ کیے گئے، پھرجب ان کو پتا چلا کہ پلیٹ لیٹس انتہائی کم ہیں تو ہسپتال منتقل کیا گیا۔حسین نواز نے کہا کہ مریم نوازکی صحت سے متعلق ہمیں نہیں بتایا جا رہا، مریم نوازتک ہمارے کسی ڈاکٹر کو رسائی نہیں دی جارہی۔جب قیدی کی فیملی سے بات چھپائی جائے گی توکیایہ انصاف ہے؟انہوں نے کہا کہ یہاں ہرچیز کو سیاست کی نظر کردیا جاتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ میاں صاحب ہشاش بشابش ہسپتال پہنچے۔ جب مریض بارے ایسی باتیں کی جائیں گی تو پھر مریض کہے گا کہ ٹھیک ہے میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت یا ہسپتال سے کوئی درخواست نہیں کروں گا۔برطانیہ کے اندر ان کے ڈاکٹرز کو ساری بیماری کی ہسٹری کا علم ہے۔نوازشریف کو قابل اور ایسے ڈاکٹرز کے پاس لے جایاجن کو ان کی بیماری کی ہسٹری کا علم ہے ۔حسین نواز نے کہا کہ نوازشریف پردھرنے اور آزادی مارچ سے روکنے کیلئے دباؤڈالا جا رہا ہے۔اسی لیے نیب تحویل میں رکھا گیا ہے۔ورنہ اس کے علاوہ کیا اوروجہ ہوسکتی ہے؟ کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل سے نیب منتقل کردیا گیا، پھر ہم کیوں خدشات کا اظہار نہ کریں؟جب کہ نیب سے جاکر بھی کوٹ لکھپت میں تفتیش ہوسکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف میرے بزرگ اور میرے لیڈر ہیں،اگر میرے پاس کوئی نوازشریف کی طرف سے ہدایت آئی اس کا سیاست سے تعلق نہیں۔