وفاقی اور صوبائی نرسنگ کے شعبے رشوت کی آماجگاہ بن گئے

November 6, 2019 1:57 pm0 commentsViews: 2

پی این سی کی منتخب کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کے بجائے رجسٹرار نے معائنہ کمیٹی بنا ڈالی
سندھ کے پانچ نرسنگ اسکولوں کے مالکان سے دس، دس لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وفاقی اور صوبائی نرسنگ کے غیر قانونی افسران کی باہمی لڑائی جھگڑوں نے نرسنگ کی تعلیم وتربیت کو خطرے میں ڈال دیا، محکمہ صحت سندھ نے غیر قانونی افسروں کی تعیناتی کو رشوت کا ذریعہ بنالیا، ڈائریکٹر نرسنگ سندھ نے پی این سی کا صدارتی الیکشن ہارنے کے بعد کونسل کی منتخب صدر کیخلاف ینگ نرسز سندھ کے سابق صدر اعجاز کلیری کی جانب سے انتخابی نتائج کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نرسنگ کونسل کی غیر قانونی رجسٹرار فوزیہ مشتاق نے31 جولائی2019 کو منتخب کونسل کے فیصلے کے مطابق کراچی کے تین اور حیدرآباد کے دو نجی نرسنگ اسکولوں کے2017 سے جنرل نرسنگ کے ڈھائی سو سے زائد جنرل نرسنگ کے طلبہ کو پانچ روز میں انسرومنٹ دینے کے بجائے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مذکورہ اسکولوں کے معائنے کیلئے پانچ رکنی خصوصی معائنہ کمیٹی قائم کردی اور خلاف قانون مذکورہ خصوصی کمیٹی میں غیر قانونی ڈائریکٹر نرسنگ سندھ سمیت سندھ سے تین ارکان کو بھی کمیٹی میں ممبر کی حیثیت سے شامل کردیا۔ جس پر معائنے سے قبل امراض قلب کے قومی ادارے کے نرس انچارج مشتاق مسیح کے ذریعے سندھ کے پانچ نرسنگ اسکولوں کے طلبہ وک انسرومنٹ دینے کیلئے دس دس لاکھ روپے ایک ایک اسکول سے طلب کئے گئے اور جب اسکول مالکان نے دس لاکھ روپے لینے کی وجہ معلوم کی تو بتایا گیا ڈائریکٹر نرسنگ سندھ شبیر جتیال بورڈ کی کنٹرولر خیر النساء کو ہٹاکر آپ کی سہولت کیلئے اچھا کنٹرولر تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ نجی نرسنگ اسکولوں کے مالکان کے مطابق جب انھوں نے رشوت دینے سے انکار کردیا تو خصوصی کمیٹی کی خاتون سربراہ پروین کوثر کے علاوہ چار اراکین نے ان کے اسکولوں کیخلاف منفی رپورٹ جمع کرادی ہے، جس سے ڈھائی سو میل نرسوں کا تعلیمی مستقبل دائوپر لگ گیا ہے۔