ڈینگی وائرس مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پرائیویٹ بلڈ بینکوں کی چاندی

November 8, 2019 12:09 pm0 commentsViews: 3

مریضوں کو خون کے حصول میں مشکلات کا سامنا‘ اہل خانہ سے منہ مانگے پیسے وصول کئے جا نے لگے
محکمہ صحت خون کی فراہمی کو کاروبار میں تبدیل کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرے‘ سی ای او محمدی بلڈ بینک
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں ڈینگی وائرس کے پھیلائو کا سیزن دیکھتے ہوئے پرائیویٹ بلڈ بینکوں نے بھی ریٹ میں اضافہ کر دیا ہے، ایک جانب ڈینگی کے مریضوں کو خون کے حصول میں مشکلات ہیں تو دوسری جانب مریض کے اہل خانہ سے منہ مانگے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سی ای او محمدی بلڈ بینک مہدی رضوی کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت خون کی فراہمی کو کاروبار میں تبدیل کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرے۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں ڈینگی وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے ہی پرائیویٹ بلڈ بینکوں کی چاندی ہوگئی اور ڈینگی بگڑنے والے مریض کے اہل خانہ سے منہ مانگے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں محمدی بلڈ بینک کے سی ای او مہدی رضوی سے بات چیت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ بلڈ بینکس کے قیام کا بنیادی مقصد مریضوں کی خون یا اس سے متعلق اجزا کی ضروریات کو پورا کرکے اور فراہمی کو ممکن بنا کر مریضوں کی جان بچانا ہوتا ہے، ایک بوتل خون سے تین مریضوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے، یعنی ایک بوتل خون سے ریڈ سیل، فریش فروزن پلازما (ایف ایف پی) اور رینڈم یا مینوئل پلٹ لیٹس کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے اور پھر مریض کی ضرورت کے مطابق ان تینوں میں سے کسی ایک کی بوتل فراہم کر دی جاتی ہے۔ مہدی رضوی نے بتایا کہ بلڈ بینکس کے ذریعے خون کی فراہمی کے دو طریقہ کار ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ مطلوبہ خون، فریش فروزن پلازما یا رینڈم یا مینوئل پلیٹ لیٹس ایک مناسب قیمت میں فراہم کر دیے جاتے ہیں یا دوسری صورت میں کچھ رقم کم کر کے جتنی بوتلیں درکار ہوتی ہیں، اتنی خون کی بوتلیں عطیہ لے لی جاتی ہیں ، ایسے میں جبکہ شہر قائد سمیت ملک بھر میں ڈینگی بخار نے زور پکڑا ہوا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں ڈینگی بخار کا شکار ہو رہے ہیں، جن میں اکثریت غریب اور نادار لوگوں کی ہے، ان سے زائد پیسے وصول کرنا یا خون کے حصول کو مشکل بنانا بے حسی اور زیادتی ہے۔ مہدی رضوی کا مزید کہنا تھا کہ بلڈ بینکس تو انسانی ہم دردی کی بنیاد پر چلائے جانے چاہییں، نہ کہ تجارتی بنیادوں پر چلا کر مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے منہ مانگی رقم وصول کی جائے، اس جانب بلڈ بینکس کے مالکان اور ذمے داران کو توجہ دینی چاہیے اور محکمہ صحت ایسے بلڈ بینکس کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے خون یا اس متعلق اجزا کی فراہمی کو کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔