کراچی میں آٹا ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف ایکشن سندھ حکومت کا بند فلور ملز کو گندم کا کوٹا ختم کرنے کا فیصلہ

November 8, 2019 12:15 pm0 commentsViews: 3

جب صوبائی حکومت وقت پر گندم فراہم کررہی ہے تو قیمتوں میں اضافہ کیسے ہوا؟ اگر محکمہ خوراک کا کوئی افسر ملوث ہوا تو اس کیخلاف کارروائی ہوگی، چیف سیکریٹری سندھ
بین الصوبائی سرحدوں پر گندم کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکا جائے، فلور ملز ایسوسی ایشن، ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بند ہونے والے فلور ملز کو گندم کا کوٹہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مصنوعی طور پر آٹے کا بحران پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے والے فلور ملز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری خوراک، سیکرٹری ایگریکلچر و سپلائی اور پرائس کنٹرول، سیکرٹری ایکسمنٹیشن، محکمہ خوراک کے افسران، ایڈیشل کمشنر کراچی اور فلور مل ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہاکہ کراچی شہر میں ہر ماہ ضرورت کے مطابق دو لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کی جارہی ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے جو صوبے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب حکومت سندھ وقت پر گندم فراہم کر رہی ہے تو قیمتوں میں اضافہ کیسے ہوا؟ گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اگر محکمہ خوراک کا کوئی آفیسر ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی سخت ایکشن ہوگا۔ اجلاس میں سیکرٹری خوراک نے بتایا کہ کراچی ڈویژن میں 76 فلور مل ہیں جن میں سے 56 فنکشنل ہیں۔ حیدرآباد ڈویژن میں 18 میں سے 9، لاڑکانہ میں 16 میں سے 15، میرپور خاص میں 9 میں سے 5، شہید بے نظیر آباد ڈویژن میں 16 میں سے 8 جب کہ سکھر میں 62 میں سے 26 فلور ملز چل رہی ہیں۔ اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہاکہ حکومت نے گندم کا کوٹہ مقرر کیا ہے جس سے بند ملوں کو گندم کا کوٹہ نہیں ملنا چاہیے اور بین الصوبائی سرحدوں پر گندم کی غیر قانونی اسمگلنگ کو بھی روکا جائے۔ انہوں نے کہاکہ جیکب آباد کے راستے سے گندم بلوچستان، کے پی کے اور افغانستان تک جانے کی اطلاعات ہیں۔ چیف سیکرٹری سندھ نے فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ صوبے کی گندم کی اسمگلنگ کو روکا جائے گا اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس پر کارروائی کرے گی۔ گندم کے کوٹے سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور جو فلور ملیں فنکشنل نہیں ہیں ان کو گندم فراہم نہیں کی جائے گی۔ چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے مزید کہاکہ پاسکو سے بھی 4 لاکھ میٹرک ٹن گندم مل رہی ہے انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اب شہر میں آٹے کی قیمت پر ہر صورت قابو پایا جائے۔ اجلاس میں محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر مشتمل 4 رکنی کمیٹی کراچی کے گودام کا دورہ کرکے گندم کی کوالٹی کا جائزہ لے گی اور رپورٹ پیش کرے گی۔