صبح معطلی شام میں مک مکا ٗ کے ڈی اے میں بدعنوان افسران کی بحالی کا نیا کھیل شروع

November 8, 2019 12:15 pm0 commentsViews: 1

ادارے کے حکام نے وزیر بلدیات کے نام کو مذاق بنادیا ٗ چپڑاسی سے افسران تک تمام تبادلوں وتعیناتیوں کا ذمہ دار بھی ناصر حسین شاہ کو قرار دیدیا
وزیر بلدیات کی عدم توجہی کے باعث کھلے عام بدعنوانیوں کا بازار گرم ٗ سینئر افسران کا سخت تشویش کا اظہار ٗ وزیر بلدیات سمیت تحقیقاتی اداروں سے نوٹس لینے کی اپیل
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)ادارہ ترقیات کراچی میں افسران کی صبح معطلی اور شام میں مک مکا کے بعد بحالی کا نیا کھیل شروع کردیاگیا،ادارے کے حکام نے وزیر بلدیات ناصر شاہ کے نام کو مذاق بنادیا ،چپڑاسی سے افسران تک تمام تبادلوں وتعیناتیوں کا ذمہ دار بھی ناصر شاہ کو قرار دیا جانے لگا،وزیر بلدیات کی عدم توجہی کے باعث اداروں میں ان کے نام پر کھلے عام بدعنوانیوں کا بازار گرم ہوگیا،30اپریل کو معطل کئے جانے والے ایکسئن گلستان جوہر کو اگلے ہی روز بحال کئے جانے کا انکشاف،ادارے کے سینئر افسران نے موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر بلدیات سمیت تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس کی اپیل کردی۔تفصیلات کے مطابق شہر کے اہم ترین ادارے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں منافع بخش عہدوں پر تعینات افسران وملازمین کو پہلے معطل اور بعدازاں مک مکا کے بعد فوری بحال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیاہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ چند یوم کے اندر متعدد افسران کو پہلے معطل کیا گیا یا معطلی کی دھمکی دی گئی تاہم بعدازاں مبینہ طور پر مک مکا کے بعد بحالی یا معطلی کے فیصلے کو ختم کردیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے کے بالخصوص محکمہ لینڈ اور محکمہ ریکوری کے افسران وملازمین کو معطل کر کے چند گھنٹوں میں ہی بحال کیا گیا ہے،اس میں دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام معطلی،بحالی،تبادلے،وتقرری میں ادارے کے حکام براہ راست وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا نام کھلے عام استعمال کر رہے ہیں،اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ڈائریکٹر میڈیا رئیس تبسم کی تعیناتی کو بھی ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے بدر جمیل میندھرو نے وزیر بلدیات سے منسوب کیا تھا تاہم اس کے علاوہ کنٹریکٹ ملازمین کی بحالی ہو یا کسی افسر کا تبادلہ تمام اقدامات اور فیصلوں میں وزیر بلدیات کا نام استعما ل کیا جارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ 30اکتوبر کو گلستان جوہر میں تعینات محکمہ لینڈ کے ایکسئن عارف رضا کو بھی ڈی جی کے ڈی اے کے حکم پر معطل کیا گیا تاہم اگلے ہی روز عارف رضا کی ڈی جی کے ڈی اے سے بند کمرے میں ملاقات کے بعد یکم نومبر کو عارف رضا کی معطلی کے آرڈر کوکالعدم کردیا گیا۔