جیل معاملات میں وفاق کی مداخلت ٗ وزیراعلیٰ سندھ نیب ترمیم کیخلاف عدالت جائینگے

November 14, 2019 1:36 pm0 commentsViews: 4

آرڈیننس 1999میں ترمیم کے مطابق 50ملین روپے تک خرد برد کرنیوالے ملزم کو سی کلا دینے کا معاملہ خالصتاً جیل مینوئل کا ہے
وفاقی حکومت اس طرح کی ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے ٗ وہ متعدد بار یہ بات کہہ چکی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں ہے ٗ مراد علی شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیب آرڈیننس کی ترمیم جس کے تحت ایک ملزم جس نے 50 ملین روپے تک خردبرد کی ہے کو جیل میں سی کلاس کی سہولت دی جائے گی کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کی حدود میں مداخلت کر رہی ہے، انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کی قومی احتساب آرڈیننس 1999ء میں ترمیم کے مطابق 50 ملین روپے تک خرد برد/ غبن کرنے والے ملزم کو جیل میں سی کلاس کی سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ خالصتاً جیل مینوئل کا معاملہ ہے اور وفاقی حکومت اس طرح کی ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے لہٰذا صوبائی حکومت نے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے یہ بات بارہ دری میں کراچی واٹر بورڈ کو 20 سیکشن اور ہائی پریشر جیٹنگ مشینیں حوالے کرنے کی تقریب کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے آرڈیننس میں دفعہ 10 شامل کی ہے جس کے تحت وہ ملزم جس نے 50 ملین روپے تک کا غبن کیا ہو اسے جیل میں سی کلاس کی سہولت دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہاکہ وفاقی حکومت متعدد بار یہ بات کہہ چکی ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے کہ اس میں ترمیم نہ ہو سکے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ضرور ترمیم کر سکتے ہیں مگر یہ ترمیم صوبوں کو مزید اختیارات دینے کے لیے ہو سکتی ہے، مگر آپ (وفاقی حکومت) کو اسے ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔