شہبازشریف کا بطور چیئرمین پی اے سی استعفیٰ منظور

November 21, 2019 1:40 pm0 commentsViews: 7

رانا تنویر کوچیئرمین نامزد کئے جانے کا امکان‘شہباز شریف کا مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ
وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا ہمارا قانونی حق ہے ، صحافی کے سوال پر جواب
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی ) کی چیئرمین سے مستعفی ہوگئے۔ن لیگ کی جانب سے رانا تنویر کوچیئرمین مین پی اے سی نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کا بطورچیئرمین پی اے سی استفعیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہباز شریف کا پی اے سی سے استفعیٰ منظور کیا۔نوٹی فیکیشن کے مطابق شہباز شریف کے پی اے سی سے استعفے کا اطلاق 20 نومبر سے ہو گا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا ہمارا قانونی حق ہے ، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب لائیں گے اس حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے شہباز شریف کا استفعیٰ منظور ہونے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔خیال رہے کہ کچھ ماہ قبل مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔صحافی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ اب آپ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلاتے ؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ پارٹی فیصلہ کر چکی ہے کہ رانا تنویر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔اسی لیے میں اجلاس میں نہیں جا رہا اور میں نے انتخابی دھاندلی کمیشن ست مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پارٹی خواجہ آصف کے پارلیمانی لیڈر ہونے کا فیصلہ بھی کر چکی ہے۔ میں پارٹی کے فیصلوں کا پابند ہوں۔ فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں۔ رہبر کمیٹی کے لیے احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کے نام بھجوائے ہیں۔دونوں رہنما رہبر کمیٹی میں مسلم لیگ ن کی نمائندگی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ایک سوچ ہے ، جسے وقت کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو مکمل طور پر سپورٹ کریں گے ، ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ شہباز شریف نے مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ بھی کیا۔