وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد اپریل تک نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دے دی گئی

December 2, 2019 1:10 pm0 commentsViews: 3

وزیر اعظم عمران خان کیخلاف اسمبلی کے 20 فیصد ارکان کے دستخط سے تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے، ارشد وحید چوہدری
مولانا فضل الرحمن کو الیکشن کی یقین دہانی کرانے والی قوتیں ہی اتحادیوں کو حکومت سے الگ کرائیں گی، تجزیہ کار کا دعویٰ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کارارشد وحید چوہدری نے اپنی تحریر اگلے انتخابات کب ہونگے؟ میں کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن 20فیصد اراکین کے دستخطوں سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر سکتی ہے۔انہوں نے اپنی تحریر میں کہا کہ اپوزیشن کے انتخابات کا مطالبہ غیر حقیقی ہے۔انتخابات کیلئے حکومت کی اتحادی پارٹیوں کو اس کا ساتھ چھوڑناہوگا۔تحریر میں سوال اٹھایاگیا کہ کیامولانا کو الیکشن کی یقین دہانی کرانے والے ہی اتحادیوں کو حکومت سے الگ کرائیں گے۔یہ اتحادی کیا ان کے اشارے پہ حکومت کا ساتھ چھوڑیں گے جنہوں نے مولانا کو اپریل میں نئے الیکشن کے انعقاد کی ضمانت دی ہے؟مولانا فضل الرحمٰن کے پلان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارشد وحید کا کہنا تھا کہ جب سے پلان بی، سی کے نام سے دھرنا ختم ہوکرعمران خان کے استعفے کے بجائے ملک میں نئے انتخابات کے مطالبے کو دہرائے جا رہے ہیں اورالیکشن کمیشن کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔مولانا جس یقین دہانی کی بنیاد پہ اسلام آباد سے واپس گئے، اس کی تفصیلات سے انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا ء کو باضابطہ آگاہ بھی کر دیا ہے جس کے مطابق انہیں اپریل تک ملک میں نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دی گئی ہے۔یادرہے جمعیت علمااسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی متعدد بار الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے حساس ترین معاملات پرقانون سازی کا حق ووٹ چوری کرکے حکومت بنانے والے قبضہ گروپ کونہیں دے سکتے،تمام اپوزیشن اس بات پرمتفق ہے کہ موجودہ اسمبلی کوفوری تحلیل کرکے ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں اوراسی بنیاد پرحکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک جاری رہے گی،الیکشن کمیشن قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرے،ایسا نہ کیا گیا توالیکشن کمیشن پرعوام کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔