کراچی کی مضافاتی زمینوں پر غیر قانونی قبضے جاری

December 2, 2019 1:21 pm0 commentsViews: 4

قبضے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرنے والوں کو حربے استعمال کرکے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے
متاثرین نے حکام اور متعلقہ اداروں سے پلاٹس واگزار کرانے اور تحفظ کی اپیل کردی
کراچی (نیوز ڈیسک) آدم جوکھیو کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے باوجود اس کے ساتھیوں کی جانب سے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں زمینوں پر ناجائز قبضے کا سلسلہ جاری ہے، ناجائز قبضوں کے متاثرین نے حکام سے پلاٹس واگزار کرانے اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جس کے مطابق کراچی کے بعض علاقوں خصوصاً مضافاتی بستیوں میں نجی اور سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ رکاوٹ بننے کی کوشش کرنے والوں کو مختلف حربے استعمال کرکے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ متاثرین کے مطابق نیب کے ہاتھوں گرفتار آدم جوکھیو کے ساتھی منظور علی ڈاہری نے ضلع ملیر میں صفورا گوٹھ کے علاقے سید ویلیج میں 18 ایکڑ زمین پر قبضہ کرلیا جو منظور علی ڈاہری نے مختار کار سے ملی بھگت کرکے 1992ء میں مختلف لوگوں کو الاٹ کردہ پلاٹس کاغذات میں جعلسازی کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے نام کروا کر فروخت کردیے۔ لینڈ گریبر منظور علی ڈاہری اور مختار کار امیر علی جتوئی کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن، کمشنر کراچی کے آفس سمیت مختلف محکموں میں درخواستیں دی گئیں جبکہ ملیر کینٹ تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی جاچکی ہے مگر کوئی موثر کارروائی نہیں کی جاسکی ہے۔ ضلع ملیر کے رہائشی عبدالسلام ڈاہری، امتیاز حسین ڈاہری، نیاز قریشی، اشرف ڈاہری اور دیگر متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ منظور علی ڈاہری نے ان کے پلاٹوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جبکہ انہیں قانونی کارروائی کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، متاثرین نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ بااثر ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کرکے ان کے پلاٹس واگزار کرائے جائیں۔ متاثرین نے انہیں اور علاقے کے مکینوں کو لینڈ مافیا سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔