فلور مل مالکان کی من مانیاں 84 کروڑ کی سبسڈی کے باوجود آٹا بدستور مہنگا

December 2, 2019 1:22 pm0 commentsViews: 4

حکومت سندھ نے رواں سیزن کے دوران 27 اکتوبر سے سرکاری گندم کا اجراء شروع کیا تھا مگر اب تک سرکاری نرخ مقرر نہیں کئے گئے
ملز مالکان نے مہنگے دام پر آٹا سپلائی کرکے ایک ماہ کے اندر کراچی کے شہریوں سے تقریباً ایک ارب 48 کروڑ روپے بٹور لئے، سندھ حکومت خاموش
کراچی (نیوز ڈیسک) حکومت سندھ کراچی کے فلور ملز مالکان کو ایک ماہ میں سرکاری گندم پر 84 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی دینے کے باوجود آٹے کے نرخوں میں کمی نہیں کرا سکی ہے۔ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود بھی آٹے کے ایکس مل سرکاری نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا ہے جس کے باعث فلور ملز مالکان نے من مانی جاری رکھتے ہوئے مہنگے دام پر آٹا سپلائی کرکے ایک ماہ کے اندر کراچی کے صارفین سے تقریباً ایک ارب 48 کروڑ روپے بٹور لیے ہیں۔ اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے فلور ملز مالکان کو رواں سیزن کے دوران 27 اکتوبر سے سرکاری گندم کا اجرا شروع کیا تھا جس کے بعد آٹے کے سرکاری طور پر ایکس ملز نرخ مقرر کرانے کے لیے 6 اور 7 نومبر کو چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس بھی منعقد ہوئے اس کے باوجود بھی تاحال آٹے کے سرکاری نرخ مقرر نہیں کیے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ کے محکمہ خوراک نے پہلے کراچی کی فی فلور مل کو لانڈھی کے گوداموں سے ماہانہ 12 ہزار 500 بوری گندم دینے کا کوٹہ جاری کیا لیکن لانڈھی کے گوداموں میں سے ملنے والی گندم میں خراب گندم اور زیادہ مٹی ملی ہوئی گندم بھی جاری ہونے کی شکایات کے بعد پاسکو نے سندھ کے محکمہ خوراک کو ایک لاکھ ٹن گندم دی تھی۔ سندھ کے محکمہ خوراک نے کراچی کی فی فلور مل کو اندرون سندھ پاسکو کے گوداموں سے بھی 6 ہزار 99 بوری گندم جاری کرنے کا کوٹہ دیا گیا اس طرح فی فلور مل کو ماہانہ تقریباً 18 ہزار 600 بوری گندم کوٹہ کے تحت جاری کی جارہی ہے۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران محکمہ خوراک نے کراچی کی فلور ملوں کو تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار ٹن یعنی 13 لاکھ گندم کی بوریاں جاری کی ہیں اس پر صوبائی حکومت نے ایک ماہ کے اندر تقریباً 84 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سبسڈی برداشت کی ہے اس کے باوجود بھی فلور ملز مالکان نے آٹے کے نرخ کم نہیں کیے ہیں۔