سندھ میں فنی تعلیم کے بیشتر ادارے انتظامی بحران سے دوچار

December 2, 2019 1:43 pm0 commentsViews:

سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کو سیاسی بنیادوں پر چلائے جانے سے فنی تعلیمی ادارے سنگین مسائل کا شکار
صوبے کے کئی ٹیکنیکل کالجز،پولی ٹیکنک اور مونوٹیکنک انسٹیٹوٹس اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں سنگین انتظامی ومالی مسائل نے جنم لے لیا
گزشتہ کئی سال سے نا تجربہ کارجیالے رہنماؤں کو سربراہ بناکر ادارے کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی گئی ‘رپورٹ سندھ اسمبلی کو ارسال
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کی غفلت اور سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( اسٹیوٹا) کو سیاسی بنیادوں پر چلائے جانے سے صوبے میں فنی تعلیم کے بیشتر اداروں میں انتظامی بحران پیدا ہوگیا جب کہ صوبے کے کئی ٹیکنیکل کالجز،پولی ٹیکنک اور مونوٹیکنک انسٹیٹوٹس اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں سنگین انتظامی ومالی مسائل نے جنم لے لیا۔سندھ میں فنی تعلیم کا محکمہ غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ انتظامی خامیوں اور حکومتی عدم توجہی کے سبب سندھ بھر میں ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹیٹوٹس میں مسائل سنگین تر ہوگئے ہیں۔سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل اتھارٹی میں گزشتہ کئی سال سے جیالے رہنماؤں کو سربراہ بناکر ادارے کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے جیالے رہنماؤں کو محکمے کا سربراہ بنایا جاتا رہا ہے جن کا مذکورہ شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کو ارسال کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے 8 اضلاع میں قائم سرکاری ٹیکنیکل کالجز،پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹس میں طلبہ واساتذہ کی شرح میں واضح فرق ہے۔ عمرکوٹ ضلع فنی تعلیم کے مراکز میں 432طلبہ کے لیے صرف 6 اساتذہ اور 43غیر تدریسی عملہ ہے جبکہ سکھر ضلع میں 15سرکاری مراکز فنی تعلیم میں زیر تعلیم 1889طلبہ کے لیے 191اساتذہ او ر 72غیر تدریسی عملہ موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق تھرپارکر ووکیشنل ٹریننگ سینٹر،پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹ اور ووکیشنل اسکول میں زیر تعلیم 487طلبہ کے لیے صرف 11اساتذہ اور 37غیر تدریسی عملہ ہے۔ ضلع قمبرشہدادکوٹ کے سرکاری فنی تعلیم کے مراکز میں بھی تدریسی عملے کی کمی ہے اور بیشتر مراکز غیر فعال ہیں۔قمبر شہداد کوٹ میں مونوٹیکنک ،پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹس اور ووکیشنل سینٹرز میں 643طلبہ کو ہنرسکھانے کے لیے صرف 11 اساتذہ تعنیات ہیں جبکہ 38غیر تدریسی اسٹاف موجود ہے۔ سکھر کے برعکس جیالوں کے شہر لاڑکانہ میں بھی سرکاری فنی تعلیم کے مراکز کی حالت زار قابل رحم اور انتظامی بحران ہے۔ لاڑکانہ میں بارہ سے زائد اسٹیوٹا کے زیر انتظام مراکز موجود 1300 زیر تعلیم طلبہ کو فنی مہارت دینے کیلیے صرف 25اساتذہ جبکہ 55نان ٹیچنگ اسٹاف موجود ہے۔شکارپور میں ٹیکنیکل انسٹیٹوٹس میں صرف 17 اساتذہ ،دادو میں ایک ہزارطلبہ کو مختلف ہنر کی تعلیم دینے کیلئے 73اساتذہ اور 146غیر تدریسی عملہ ہے۔ خیرپور میں ووکیشنل سینٹرز،پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹس،اور دیگر مراکز فنی تعلیم میں 1284طلبہ زیر تعلیم اور 54اساتذہ کے ساتھ 139غیر تدریسی عملہ تعنیات کیاگیا ہے۔جموعی طور پر سندھ کے 8 اضلاع میں 7948طلبہ کو مختلف شعبوں میں فنی مہارت فراہم کرنے کیلیے صرف 388اساتذہ اور 568غیر تدریسی عملہ ہے۔ حکومت سندھ نے پچھلے کئی برسوں کے بجٹ میں فنی تعلیم کے شعبے کے لیے مختص فنڈز بڑھانے کے بجائے اسکا حجم کم کردیا ہے جس سے فنی تعلیم کے شعبے زوال پزیر ہورہے ہیں۔