ڈیفنس میں راہ چلتی لڑکی کے اغواء کا معاملہ

December 2, 2019 1:48 pm0 commentsViews: 8

حارث اور دعا کے ساتھ اکثر ایک خاتون بھی ہوتی تھی، ویٹر کا انکشاف
لڑکی اور لڑکا 4 ماہ سے مستقل ٹی شاپ آرہے تھے اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا
واقعے کی 2 سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس نے حاصل کرلیں، افسوسناک واقعے کی تفتیش کا عمل تیز کردیا
کراچی(کرائم رپورٹر)درخشاں کے علاقے خیابان بخاری کمرشل ایریا میں راہ چلتی لڑکی کو اغوا اور اس کے دوست کو گولی مار کرزخمی کرنے کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کا عمل تیز کردیا گیا۔ ویٹر کا بیان سامنے آگیا۔ویٹر نے انکشاف کیا کہ حارث اوردعاکیساتھ اکثرایک خاتون بھی ہوتی تھی۔ بیان کے مطابق حارث اوردعا 4 ماہ سے مستقل ٹی شاپ آرہے تھے اور عرصے کے دوران کوئی بھی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا ، دعامنگی اورحارث ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب اغوا ہونے والی 20 سالہ دعامنگی کا تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا اور پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی ٹیمیں مغوی کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔تفتیشی ٹیم نے ڈی ایچ اے بخاری کمرشل میں جائے وقوعہ کادورہ کیا اور کئی لوگوں کے بیانات قلمبند کیے۔تفتیشی ٹیم کو وقوعہ کے مقام سے نائن ایم ایم کا خول کا ملا ہے جب کہ زخمی نوجوان حارث اورمغوی دعا کو آرڈر فراہم کرنے والے ویٹرکابیان ریکارڈ کیا ہے۔دوسری جانب واقعے کی 2 سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس نے حاصل کر لی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاہ رنگ کی کار میں سوار افراد لڑکی کو اغوا کر کے لے جارہے ہیں۔