کے ڈی اے میں کروڑوں کا فنڈ ہڑپ کرنے کیلئے مافیا نے انٹری ڈال دی

December 7, 2019 11:58 am0 commentsViews: 6

80 کروڑ سے زائد لاگت کے 10 ترقیاتی منصوبے مبینہ جعلسازی اور انتہائی بھونڈے انداز سے خفیہ طریقے سے ٹھکانے لگادیا ٗ کراچی کے سیکڑوں ٹھیکیداروں کو محکمہ بلدیات اور کے ڈی افسران نے ماموں بنادیا
سابق ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل میندھر و اور سیکریٹری بلدیات پر ٹھیکوں کی خریدوفروخت کا الزام ٗ اعلیٰ حکام کی پراسرار خاموشی برقرار ٗ سینئر کنٹریکٹر ز نے نیب سمیت ایف آئی اے سے کارروائی کیلئے مدد مانگ لی
کراچی(وقائع نگار خصوصی)ادارہ ترقیات کراچی(کے ڈی اے) میں بھی کروڑوں کا ترقیاتی فنڈ ٹھکانے لگانے والی مافیا نے انٹری ڈال دی،80 کروڑ سے زائد لاگت کے 10 ترقیاتی منصوبے مبینہ جعلسازی اور انتہائی بھونڈے انداز سے ٹھکانے لگائے جانے کا انکشاف،کراچی کے سینکڑوں ٹھیکیداروں کو محکمہ بلدیات سندھ اور کے ڈی اے افسران نے ماموں بناڈالا،سابق ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل میندھرو اور سیکریٹری بلدیات پر ٹھیکوں کی خریدوفروخت کا سنگین الزام،ڈیڑھ ماہ قبل مبینہ چائنا ٹینڈرنگ کرکے ٹھیکے چہیتوں کو فروخت کئے گئے اور حیران کن طور پر مزکورہ فروخت شدہ ٹھیکوں کی دوبارہ این آئی ٹی رواں ماہ طلب کرلی گئی،کروڑوں کے ترقیاتی فنڈز کی انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ جاری لوٹ مار پر اعلی حکام کی پراسرار خاموشی برقرار،کراچی کے سینئر کنٹریکٹرز نے نیب سمیت ایف آئی اے سے فوری نوٹس اور بدعنوان افسران کیخلاف سخت کارروائی کیلئے تحقیقاتی اداروں سے مدد مانگ لی-تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی میں صوبائی اے ڈی پی فنڈز کے 80 کروڑ سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کو انتہائی بھونڈے انداز سے ہڑپ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سابق ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل میندھرو کی جانب سے ایک لیٹر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو بھیجا گیاتھا جس میں مذکورہ 10 ترقیاتی اسکیموں کو ٹینڈر کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کیلئے کہا گیا جس میں کے ایم سی کے انجینئر ظہیر عباس کے ساتھ کے ڈی اے اور کے ایم سی کے افسران کو شامل کیا گیا جس میں کے ڈی اے کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر سید محمد رضا،سب انجینئر طلعت بھٹی اور کے ایم سی کیاکائونٹ آفیسر حسین علی جعفری کو مقرر کیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد پر مشتمل کمیٹی کاآرڈر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس کمیٹی نے کاغذات کا پیٹ بھر کر 10 اسکیموں کو حکام کی مبینہ ہدایت پر خفیہ طریقے سے ٹھکانے لگادیا اور کاموں کے ورک آرڈر تک جاری کردیئے اور اس تمام عمل کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ۔