آسٹریلیا میں بے تحاشا پانی پینے والے 10ہزار اونٹوں کو گولی مارنے کا حکم

January 10, 2020 11:53 am0 commentsViews: 16

پانچ روزہ مہم پر عملدرآمد کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کئے جائیں گے
اونٹ گھروں میں گھس کر ایئر کنڈیشنڈ کے ذریعے پانی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اونٹوں کی وجہ سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے ٗ مقامی شہریوںکی شکایت
سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک)قحط سے دوچار جنوبی آسٹریلیا میں 10 ہزار سے زائد اونٹوں کو ماہر شوٹرز کے ذریعے گولیاں مارنے کا حکم دے دیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی حکام اونٹوں کو قتل کرنے کی 5 روزہ مہم کا آغاز9 جنوری سے کریں گے جس کی وجہ ان کا بہت زیادہ پانی پینا بتائی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریلوی حکام اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کریں گے۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں حالیہ عرصے کے دوران زبردست گرمی پڑ رہی ہے، اس گرمی کے باعث انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی بے حال ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں لگنے والی آگ نے خوفناک صورتحال پیدا کی ہوئی ہے۔ ایک حیران کن خبر نے سب کو افسردہ کر دیا ہے۔ اس خبر کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بے تحاشا پانی پینے پر 10 ہزار اونٹوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا ہے۔مقامی شہریوں کی جانب سے شکایت کی گئی ہے کہ اونٹوں کی بڑی تعداد پانی کی تلاش میں ان کی آبادی میں داخل ہو کر نہ صرف تباہی مچاتی ہے بلکہ دستیاب پانی بھی پی جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں سخت گرمی کے ماحول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ اونٹ آتے ہیں اور نہ صرف گھروں میں گھستے ہیں بلکہ ایئر کنڈیشنڈکے ذریعے پانی حاصل کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔مقامی شہریوں کے مطابق آبادی میں داخل ہونے والے اونٹوں کی جانب سے یہاں رہنے والے لوگوں کی جانوں کو بھی خطرہ ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اونٹوں کی قتل کرنے کی ایک وجہ خشک سالی بھی ہے۔آسٹریلیا کی مقامی حکومت کی ایک خاتون عہدیدار کا کہنا تھا کہ اونٹ ہمارے معاشرے میں مسائل پیدا کر رہے ہیں ہم شدید تعفن اور مشکل حالات میں گھِر گئے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر برے اثرات پڑرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اونٹوں کی بڑی تعداد گھروں کے اطراف آرہی ہے اور گھروں کے باہر لگی باڑوں کو دھکیل کر ائیرکنڈیشنر کا پانی بھی پینے کی کوشش کرتی ہے۔واضح رہے کہ آسٹریلیا کے جنگلات میں نومبر سے لگی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے جس میں اب تک 48 کروڑ جانورو سمیت 30 سے زائد افراد بھی ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔