سیکولر بھارت کا چہرہ بے نقاب ٗ احتجاج کرنیوالے مسلمانوں کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی

January 14, 2020 1:57 pm0 commentsViews: 2

اگر کوئی نریندر مودی یا یوگی آدتیا ناتھ کیخلاف نعرہ لگائے گا میں اسے قتل کردوں گا، رگھوراج سنگھ کی ہرزہ سرائی
کھاتے انڈیا کا ہو اور ہمارے رہنماؤں کو مردہ باد کہتے ہو‘ نہرو کس ذات کا تھا اس کا تو کوئی خاندان تک نہ تھا
اتر پردیش( مانیٹرنگ ڈیسک ) بی جے پی کے وزیر رگھوراج سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے مودی سرکارکیخلاف احتجاج کرنے والوں کوزندہ دفن کرنے کی دھمکی دے دی ، بھارت میں شہریت کے متنازع قانون اورطلبا پرتشدد کے خلاف احتجاج جاری ہے۔بھارتی حکمراں جماعت نے متنازع شہریت بل مخالفین کو زندہ دفن کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر رگھو راج سنگھ نے علی گڑھ میں مسلمانوں کے خلاف متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حق میں جلسہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس نے کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شہریت قانون، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیا ناتھ کے خلاف بول رہے ہیں انہیں زندہ دفن کردیا جائے گا۔ رگھو راج سنگھ نے زہر اگلتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نریندر مودی یا یوگی آدتیا ناتھ کے خلاف نعرہ لگائے گا میں اسے زندہ دفن کردوں گا، تم لوگ کھاتے انڈیا کا ہو اور ہمارے ہی رہنماؤں کو مردہ باد کہتے ہو۔ یہ نعرے ناقابل قبول ہیں۔ اس کا اشارہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طلبہ کی طرف تھا جنہوں نے اس قانون کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔رگھو راج سنگھ نے بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو بھی نہیں بخشا اور ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نہرو کس ذات کا تھا اس کا تو کوئی خاندان تک نہ تھا۔ رگھو راج سنگھ کی اس کھلی اشتعال انگیزی کے باوجود بھارتی حکومت اور پولیس نے اس وزیر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔واضح رہے کہ مودی حکومت نے بھارت میں متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے سوا دیگر مذاہب کے تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی۔اس قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہورہے ہیں جنہیں بھارتی پولیس نے سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔ بھارتی پولیس کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور تشدد سے درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔