شراب کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا بل قومی اسمبلی میں پیش

January 14, 2020 2:00 pm0 commentsViews: 6

بل غیر مسلم رکن نے پیش کیا ہے ٗ خواتین سمیت بیشتر ارکان نے بل کی مخالفت کردی
ڈاکٹر رمیش کمال کا شراب کی فروخت کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا بل مذہب کے نام پر شراب کی فروخت روکنے سے متعلق تھا
پاکستان میں اقلیتوں کے نام پر شراب حاصل کی جاتی اور بنائی جاتی ہے ٗ مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف کے بل کی حمایت کردی
مسلمان ارکان اسمبلی نے بل منظور نہیں ہونے دیا ٗ ڈاکٹر رمیش کمار نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے بل پیش کیا ہے ٗ فواد چوہدری کا الزام
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے شراب کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا بِل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ہندو رکن قومی اسمبلی تحریک انصاف کے ڈاکٹر رمیش کمار کا شراب کی فروخت کے اجازت نامے منسوخی کے حوالے سے بل مذہب کے نام پر شراب کے کاروبار کو روکنے کے حوالے سے تھا، جب بل ایوان میں پیش کیا گیا تو خواتین سمیت ارکان اسمبلی نے مخالفت کی جس کا بہت افسوس ہوا۔ مقامی ٹی وی چینل کے اینکر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہمیشہ غیر مسلم کے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر حقوق دیتے نہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا مذہب کے نام پر شراب کا کاروبار کرنا غلط ہے اور کسی مذہب میں شراب کے کاروبار کی اجازت نہیں، شراب کے کاروبار کو مذہب کے نام پر نہیں چلانا چاہیے اور مولانا فضل الرحمن کی ایم ایم اے نے تحریک انصاف حکومت کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے نام پر شراب حاصل کی جاتی ہے، بنائی جاتی ہے، بیچی جاتی ہے اور پی جاتی ہے۔ تو ایسا نہ کیا جائے، جنہیں لائسنس دیے گئے ہیں شراب کے ان پرمٹ کو منسوخ کیا جائے۔ ایک ہندو رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کے شراب کے اجازت نامے منسوخ کرنے کے بل کو تمام مسلمان ارکان اسمبلی نے مل کر اسے منظور نہیں ہونے دیا جبکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹی وی چینل پر ٹاک شو میں بیٹھ کر کہاکہ ڈاکٹر رمیش کمار نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے شراب سے متعق قرارداد لانے کی کوشش کی۔ فواد چوہدری نے کہاکہ اس کام میں قانون سے متعلق کچھ نہیں ہوگا جس نے شراب پینی ہے وہ پیتا رہے گا اور جس نے شراب نہیں پینی وہ نہیں پیئے گا۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تو پھر قتل کا قانون بھی ختم کر دیا جائے کیونکہ جس نے قتل کرنا ہے اس نے کرنا ہے، جس نے نہیں کرنا اس نے نہیں کرنا۔ فواد چوہدری صاحب! ہم سب مسلمان ہیں اور مسلمانوں کو اون کرتے ہیں، قومی اسمبلی میں اسلامی آئین کی بات کرنی چاہیے سب لوگ مل کر آپ کو کہتے ہیں کہ جی یہ درست بات ہے کہ یہ بل تو ہم پیش کرتے ہیں یہ ہندو کیا ہم مسلمان ہیں اور ہم اس کو اون کرتے ہیں اور اس پر بات کرتے ہیں، لیکن عجیب بات قومی اسمبلی میں ہوئی اور ٹاک شوز میں پیش ہو کر فواد چوہدری کی بات کا دفاع کیا گیا کہ اچھا ہوا ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے اجازت نامے کی منسوخی کے حوالے سے بِل منظور نہیں ہوا، جس نے پینی ہے اس نے پینی ہے۔ فواد چوہدری صاحب! آپ کو معلوم ہونا چاہیے آپ حکومت کے ترجمان اور وفاقی وزیر ہیں اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر رمیش کمار نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا۔ مقامی ٹی وی چینل کے اینکر کا کہنا تھا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ ذاتی حیثیت میں بات کر رہے ہوتے تو الگ بات تھی لیکن آپ ریاست کے ترجمان ہیں۔ بہت افسوس ہوا آپ کے اس بیان پر جوکہ آپ نے دیا۔ جب اسلامی احکامات کی بات آتی ہے تو اسلامی شعائر کی بات کرنی چاہیے، اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے منع کی گئی شراب کے اجازت نامے پر پابندی کے لیے ایک غیر مسلم نے قرارداد پیش کی، مگر نام نہاد جمہوری لبرلز نے اس کی مخالفت کرکے اپنے اندر کی خباثت کا اظہار کیا۔ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جہاں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کی نفی کی جائے۔ ہندو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کی قرارداد کی مخالفت کرنے والوں کو آرٹیکل 62، 63 کے تحت نااہل کر دینا چاہیے۔