قومی اسمبلی اجلاس میں گرما گرمی: شہریار آفریدی نے قرآن پاک اٹھا کر رانا ثنا اللہ کا چیلنج پورا کردیا

January 15, 2020 12:18 pm0 commentsViews: 8

اگر میں نے یا وزیر اعظم نے سازش کی تو مرتے وقت اللہ کلمہ نصیب نہ کرے‘شہریار آفریدی
آج تک 25 سالہ سیاسی کیریئر میں کسی منشیات فروش سے تعلق یا اس کی سفارش نہیں کی‘رانا ثنااللہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی وزیر شہریار آفریدی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ کے مابین الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ قرآن ہاتھ میں لے کر پریس کانفرنس کرتے اور اسمبلی میں آتے ہیں، شکر ہے کہ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر پھر رہے ہیں اور ماڈل ٹاؤن والے بھی دیکھ رہے ہیں، راناثنا اللہ آکر قرآن پر ہاتھ رکھ کر بات کریں۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں رانا ثنا اللہ آج سی این ایس کورٹ کی بات کرتے ہیں آج ان کی تمام کوتاہیاں نظر آئیں، ان کے بقول ان کے خلاف سازش کی گئی یہ فیصلہ نہ میڈیا نہ پارلیمان کو حل کرنا ہے اس کا حل عدالت کرے گی، انہیں احساس ہو نا چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہو گا، رانا ثناء اللہ سے سوال ہے کہ سات ماہ سے ٹرائل سے بھاگ کیوں رہے ہیں؟ آپ ٹرائل میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، تمام ثبوت جن پر فیصلہ ہونا ہے اس پر بات نہیں کی گئی اور میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ رانا ثنا اللہ مختلف حربے استعمال کرکے 7 ماہ سے ٹرائل شروع ہونے نہیں دے رہے، 18 تاریخ کو ان کے کیس کی سماعت ہے، یہ کہہ دیں کہ ٹرائل شروع کر دیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائیگا۔شہر یار آفریدی نے کہا کہ اگر میں نے کسی بھی بیان میں یا کسی جگہ پر قسم کھائی ہو جو چور کی سزا وہ میری سزا، اگر میں نے یا وزیر اعظم نے سازش کی تو مرتے وقت اللہ کلمہ نصیب نہ کرے، اس بات کا مذاق اڑایا گیا، ہم ایوان میں کسی کو ٹارگٹ کرنے نہ آئے لیکن حکومت آپ کو بھاگنے نہیں دے گی، ہم ڈرنے والے نہیں، قطر میں اے این ایف کا ایک ایونٹ ہے وہاں کل جا رہا ہوں، ہم آپ کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ثابت ہو گا رانا ثنا اللہ کے حوالے سے تمام چیزیں حقائق پر مبنی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے وزیر مملکت برائے داخلہ کو قومی اسمبلی میں چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریار آفریدی قسم کھائیں اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر مجھ پر لگائے گئے الزامات دہرائیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھاتا ہوں کہ آج تک 25 سالہ سیاسی کیریئر میں کسی منشیات فروش سے تعلق یا اس کی سفارش نہیں کی، اگر کبھی غلطی سے بھی ایسا ہوا ہو تو اللہ کا قہر و غضب مجھ پر نازل ہو۔انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی بھی میرے مقدمے سے متعلق سب حقائق جانتے ہیں لیکن ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ قسم کھائیں اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر مجھ پر لگائے گئے الزامات دہرائیں۔جس پر قائم مقام اسپیکر فخر امام نے اسمبلی رولز پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ رول کے مطابق ارکان اسمبلی میں زیر سماعت مقدمات پربات نہیں کرسکتے، رول آف اسمبلی 31 کے تحت زیر سماعت مقدمات پربات نہیں کی جاسکتی لہذا دونوں ارکان زیر سماعت مقدمات پر گفتگو نہ کریں۔اسپیکر نے شہریار آفریدی اور رانا ثناء اللہ کو گفتگو سے روکتے ہوئے اجلاس میں 10 منٹ کا وقفے کر دیا۔اس دوران خواجہ آصف کی جانب سے قومی اسمبلی کی لائبریری سے منگوایا گیا قرآن مجید شہریار آفریدی نے اٹھا لیا اور وہ ایوان میں بولتے رہے تاہم مائیک بند ہونے کی وجہ سے ان کی گفتگو ریکارڈ نہ کی جاسکی۔رانا ثناء اللہ کا چیلنج پورا کرنے کے بعد مولانا صلاح الدین ایوبی نے شہریار آفریدی سے قرآن پاک واپس لے لیا۔