ملک بھر میں تباہی قیامت خیز بارش اور برفباری سے 110 افراد جاں بحق، 56 مکان تباہ

January 15, 2020 12:18 pm0 commentsViews: 8

41 افراد زخمی، لوگ گھروں میں محصور ہوگئے، وادی نیلم کے علاقہ سرگن سیری بکوالی، بگنواں سمیت کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، برفانی تودہ گرنے سے مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں
درجنوں افراد لاپتہ، سرد موسم، بارش اور شدید برفباری کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا، پاک فوج کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا، وزیر اعظم متاثرہ علاقوں کا دورہ کرینگے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں قیامت خیز بارشوں، سردی اور برف باری نے تباہی مچا دی۔ برفباری، لینڈ سلائیڈنگ سمیت دیگر واقعات میں 110 افراد جاں بحق جبکہ 41 زخمی، لوگ گھروں میں محصور ہوگئے۔ وزیراعظم عمران خان آج آزاد کشمیر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے، وزیراعظم نے برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے نقصانات کے بعد اپنی تمام سیاسی مصروفیات تَرک کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔ وزیراعظم عمران متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں تین روز سے جاری بارشوں، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، سرگن سیری، بکوالی اور بگنواں سمیت کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر واقع وادی نیلم کے علاقہ سرگن بکوالی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑا برفانی تودہ رہائشی علاقے پر آن گرا جس کے نتیجے میں 19 افراد دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد لاپتا ہیں، آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں جس سے کئی اضلاع، تحصیلوں اور دیہی علاقوں کا زمینی رابطہ کٹ گیا، متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیے گئے، سرد موسم، بارش اور شدید برفباری کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، مقامی ذرائع کے مطابق اس وقت سرگن بکوالی علاقے میں دس سے گیارہ فٹ برف پڑ چکی ہے، برف کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لیے پاک فوج کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے 65 مکانات مکمل تباہ ہو گئے جبکہ 78 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ دوسری طرف پاک فوج کا ریسکیو آپریشن دن رات جاری ہے، زخمیوں کو بذریعہ آرمی ہیلی کاپٹرز مظفر آباد اور اسلام آباد کے اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا جبکہ عام شہریوں کے لیے بھی ہیلی کاپٹر سروس شروع کردی گئی، برفانی تودوں سے بعض زندہ افراد کو بھی نکال لیا گیا۔ علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں بارش کے دوران ژوب، پشین اور خانوزئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں شاید اتنی شدید برفباری پہلے نہیں ہوئی اس لیے مشکل صورتحال کا سامنا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے کان مہترزئی میں برف میں پھنسے 500 مسافروں کو ریسکیو کر لیا گیا، منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں مسافر گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے۔