آئی جی سندھ کی تبدیلی کا فیصلہ وزیراعظم کی مرضی سے ہوا

January 16, 2020 12:25 pm0 commentsViews: 8

وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے 23 دسمبر کو ون ٹو ون اہم ملاقات میں آئی جی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا
پی ٹی آئی سندھ کے رہنماؤں کو کوئی علم ہی نہیں اسی لیے وہ اس کیخلاف بیانات دے رہے ہیں‘باوثوق ذرائع
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے درمیان سی سی آئی میٹنگ کے بعد اسلام آباد میں 23 دسمبر کو ون ٹو ون اہم ملاقات ہوئی تھی جس میں وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کو سندھ کے مسائل سے مکمل طور پر آگاہ کیا تھا۔پی ٹی آئی سندھ کے رہنماؤں کو اس سلسلے میں کوئی علم نہیں اسی لیے وہ اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ ہمارے انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعلی سندھ نے جن اہم مسائل کی طرف وزیراعظم کو متوجہ کیا تھا اْن میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنا تھا کیونکہ سندھ خصوصاً کراچی میں اسٹریٹ کرائمز نے شدت اختیار کی ہوئی ہے اور دعا منگی کے واقعے کے بعد وزیراعلی بہت مایوس تھے، وزیراعظم نے وزیر اعلی سندھ کو نہ صرف مکمل تعاون کا یقین دلایا بلکہ ان حالات پر بہت پریشانی کا بھی اظہار کیا تھا اس ہی موقع پر وزیر اعلی نے آئی جی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کو وزیر اعظم نے نہ صرف غور سے سْنا بلکہ اپنے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی اور وزیر اعلی سے اس عہدے کے لیے چند اچھی شہرت کے نام پیش کرنے کا کہا اور پھر کل وزیر اعلی نے اپنی قیادت اور کابینہ سے مشورے کے بعد آئی جی سندھ کے لیے نئے نام پیش کردیئے جن میں کامران فضل اور غلام قادر تھیبو میں سے کوئی ایک نیا آئی جی بنایا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلی کی وزیر اعظم کے ساتھ یہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کو سراہا تھا، ہمارے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے وزیراعلی کو کہا کہ میں تو آپ کے متعلق کچھ اور ہی سوچتا تھا مگر آپ ایک قابل اور ذہین انسان ہیں، وزیراعلی نے بھی وزیر اعظم کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا تھا۔ یاد رہے کہ عمران خان کی وزیر اعظم بننے کے بعد وزیراعلی سے پہلی ملاقات تھی جس میں گورنر سندھ شریک نہیں تھے۔ وزیراعظم حتی الامکان کوشش کررہے ہیں کہ ملک حکومت اور اپوزیشن کے اختلافات سے نکل کر ترقی کی طرف بڑھے۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ کو فوری طور پر اسلام آباد طلب کیا ہے تاکہ وہ گورنرکو اپنے فیصلے سے آگاہ کرسکیں اور گورنر دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں۔