بھارت تباہی کے راستے پر چل رہا ہے پاکستان اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا‘ وزیراعظم

January 23, 2020 1:01 pm0 commentsViews: 2

کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت بڑھی‘ پاک بھارت میں امن ہوگا تو وسائل غریب پر خرچ ہوں گے
لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے‘عمران خان کا ڈیوس میں بین الاقوامی میڈیا کونسل سے خطاب
ڈیوس(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت اس وقت جس راستے پر چل رہا ہے وہ اسے تباہی کی جانب لے جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت بڑھی۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا اور قوم نے 70ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، اس جنگ میں کامیابی کے بعدمعیشت کی ترقی ترجیح ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا کا طالبان سے امن معاہدہ پاکستانی معیشت اور خطے میں قیام امن کیلئے ضروری ہے، کیونکہ افغانستان میں جنگ بندی سے پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک اقتصادی راہداری کا دروازہ کھل جائے گا، افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکاسے ملکرکام کررہے ہیں، کوشش ہے سعودی عرب اورایران میں تعلقات بہترہوں، ہم نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان محاذ آرائی کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے تاریخی مقامات ہیں اور سیاحت کیلئے بہترین ملک ہے، ہماری سرزمین کئی قدیم تہذیبوں کامسکن ہے جہاں ایسے مقامات ہیں جوابھی تک دنیاکی نظرسے اوجھل ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہنرمندنوجوانوں کی کمی نہیں اور زیادہ ترآبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے، ان کے روزگارکیلئے غیرملکی سرمایہ کاری لائیں گے، حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ توجہ معیشت پردی ہے۔بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں امن ہوگا تو وسائل غریب پر خرچ ہوں گے، اگر بھارت میں متنازع قانون کے خلاف احتجاج بڑھا تو ایل او سی سے توجہ ہٹ جائے گی جب کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ تباہ کن ہوگی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت سرحدی علاقوں کی بحالی کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے مبصرین کو علاقے کا دورہ کرنا چاہیے، مودی نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کئی ماہ سے محصور کیا ہوا ہے، امریکی صدر سے بھی کشمیر کی صورت حال پر بات کی ہے، ایل او سی پر کشیدگی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت پیدا ہوئی، ماضی میں حکمرانوں نے ملک سے دولت لے جانے کے لیے ادارے کمزور کیے تاہم ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان میں احتساب کا عمل بھی تیز کیا گیا ہے، انھیں اقدام کی بدولت روپے کی قدر مستحکم ہوئی اور ملک درست سمت میں بڑھ رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے جب کہ خارجہ پالیسی کو فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کی حمایت ہے۔