سندھ اسمبلی میں غیرقانونی بھرتیوں اور کرپشن کی تحقیقات لٹک گئی

January 23, 2020 1:14 pm0 commentsViews: 2

104 غیر قانونی بھرتیوں اور کروڑوں روپے کی کرپشن کے حوالے سے سیکریٹری سندھ اسمبلی ودیگر افسران پر الزام لگایا گیا تھا
اینٹی کرپشن سندھ نے شکایت پر تحقیقات شروع کی، تاہم جی ایم عمر فاروق، پروجیکٹ ڈائریکٹر تا حال عہدوں پر براجمان ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں 104 غیر قانونی بھرتیوں اور کروڑں روپے کی کرپشن پر کوئی کارروائی نہ ہوئی، سیکریٹری اسیمبلی اور دیگر افسران تاحال عہدوں پر براجمان ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ کے محکمہ اینٹی کرپشن نے سراج فاطمہ اور انیسہ ناز کی شکایت پر تحقیقات شروع کی، درخواست میں سیکریٹری اسمبلی جی ایم عمر فاروق، پروجیکٹ ڈائریکٹر حفیظ اللہ شیخ، او ایس سی ہارون، ایڈیشنل سیکریٹری محمد حبیب، اسٹاف افسر عبدالستار مہر، اسپیشل سیکریٹری شفیع محمد عباسی، ایڈیشنل سیکریٹر حسن شاہ، ڈائریکٹر فنانس سید محمد عباس، گھوٹکی کے تپیدار عبداللہ چاچڑ، محمد علی اور ٹھیکیداروں نے غیر قانونی طور اسمیبلی میں بھرتیاں کیں، سال 2014ع سے لے کر 2017ع تک مختلف خرچے کی مد میں کروڑوں روپے کرپشن کی، متعلقہ افسران نے اسمبلی میں اسٹیشنری، پرنٹنگ، تحائف، یونیفارم، مشینری کی مرمت، فرنیچر کی مرمت، گاڑیوں کی مرمت، عمارتوں کی مرمت،پارکس اور باغیچے کی مرمت، ہارڈ ویئر اور ٹرانسپورٹ کی خریداری میں 85 کروڑ 38 لاکھ روپے کاخرچہ ظاہر کیا، ملازمین بغیر کسی اشتہار کے مقرر کئے گئے اور قوائد کی دھجیاں اڑائیں گئیں،سندھ اسمبلی کے افسران نے اپنے رشتے دار اور من پسند افراد بھرتی کئے، سامان کی خریداری کیلئے بھی من پسند وینڈر سے رابطہ کیا گیا، کوٹیشن سے بچنے کیلئے خریداری مختلف تاریخوں میں کی گئی، اینٹی کرپشن کی تحقیقات کے دوران غیر قانونی بھرتیاں اور کروڑوں روپے کی کرپشن ثابت ہوئی۔ سندھ اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں اور کروڑوں روپے کی بھرتیوں پر نیب بھی حرکت میں آگیا اور آگست میں چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ کے کارروائی کی ہدایت کی، خط میں کہا گیا کہ اسمبلی سیکریٹری جی ایم عمر فاروق، محمد حبیب سمیجو، محمد ہارون کے خلاف کارروائی کی جائے، نیب کے خط کو 4 ماہ گزرنے کے باوجود سیکریٹری اسمبلی سمیت تمام افسران عہدوں پر موجود ہیں اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی، شفافیت کی دعویٰ کرنے والی حکومت سندھ نے بھی معاملے پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔