کراچی تا خیبر ٗ پاکستان ریلوے کی نجکاری کیخلاف ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

January 23, 2020 1:43 pm0 commentsViews: 7

ریلوے کی اربوں کی اراضی کی بندر بانٹ ٗ من پسند کنٹریکٹر ز پر ٹھیکوں کی بارش اور چھوٹے ملازمین کو کنفرم کرنے کیلئے ورکرز یونین کی کراچی ٗ سکھر ٗ کوئٹہ ٗ لاہور ٗ پشاور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں
ریلوے کل خوشحال تھا لیکن آج خسارے سے دوچار ہے ٗ ادارے کے افسران جو کل کنگلے تھے آج راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ٗ کسی صورت ادرے کی نجکاری نہیں ہونے دینگے ٗ قائد کامریڈ منظور رضی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ریلوے کی اربوں روپے کی اراضی کی بندربانٹ، ادارے کی نجکاری، من پسند کنٹریکٹرز پر ٹھیکوں کی بارش کے خلاف اور 20 سال سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کو کنفرم کرنے کے لیے ورکرز یونین نے ملک بھر کے آٹھوں ڈویژن میں کراچی، سکھر، کوئٹہ، لاہور، پنڈی، پشاور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ ریلیوں کی قیادت چیئرمین ورکرز یونین کامریڈ منظور رضی، رائو نسیم، وحید، اسلم، مظہر شاہ اور غلام علی بٹ نے کی، درجنوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریلوے کل خوشحال تھا لیکن آج خسارے سے دوچار ہے جبکہ ادارے کے افسران جو کل کنگلے افسر تھے راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے کے قائد کامریڈ رضی منظور کے مطابق کسی صورت اس ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، ٹرینوں، پلیٹ فارم، ریلوے اسٹیشنوں پر لیٹ جائیں گے لیکن ریلوے کو کرپٹ مافیا کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ اداروں کو ملازمین نہیں افسران تباہ کر رہے ہیں اور اختیارات کا توازن ملازمین کے پاس نہیں افسران کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے ریلوے کی تباہی میں ریلوے ہیڈ کوارٹرز ملوث ہے۔ انہوں نے کراچی میں مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ریلوے کی بحالی کے لیے کراچی سے اسلام آباد تک احتجاج کریں گے اور مطالبات کے حل تک جدوجہد جاری رہے گی۔